آئین کی بالادستی یا عددی اکثریت کی حکمرانی؟ تحریر ☜ ذکی اللہ سالار بنوی

آئین کی بالادستی یا عددی اکثریت کی حکمرانی؟

تحریر ☜ ذکی اللہ سالار بنوی

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جو بظاہر ایک بیان، ایک قانون یا ایک شخصیت تک محدود دکھائی دیتے ہیں، مگر درحقیقت وہ ریاست کے آئینی ڈھانچے اور فکری سمت کا تعین کرنے والے موڑ ثابت ہوتے ہیں۔ شادی کی عمر اٹھارہ سال مقرر کرنے والے قانون پر مولانا فضل الرحمٰن کی مخالفت اور اس کے ردِعمل میں قومی اسمبلی کے اندر انہیں سزا دینے کا مطالبہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے۔ یہ معاملہ اگرچہ سیاسی اختلاف کے طور پر سامنے آیا، لیکن اس کی نوعیت محض سیاسی نہیں بلکہ آئینی اور نظریاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کس نے کیا کہا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس بحث میں آئین کہاں کھڑا ہے اور قانون کس بنیاد پر بنایا گیا ہے۔

یہ حقیقت تسلیم شدہ ہے کہ آئین اور قانون ایک ہی شے نہیں۔ آئین ریاست کی بنیاد اور بالادست دستاویز ہوتا ہے جبکہ قانون اس کے تابع ہوتا ہے۔ اگر قانون آئین سے متصادم ہو جائے تو آئینی اصولوں کے تحت قانون کو درست کیا جاتا ہے، آئین کو نہیں۔ پاکستان کا آئین اس حوالے سے بالکل واضح ہے۔ دفعہ 227 میں درج ہے کہ ملک میں کوئی بھی قانون قرآن و سنت کے منافی نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ شق محض رسمی عبارت نہیں بلکہ ریاست کے نظریاتی وجود کی ضمانت ہے۔ چنانچہ اگر کسی قانون کے بارے میں یہ سوال اٹھایا جائے کہ آیا وہ قرآن و سنت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں تو اس سوال کو جرم قرار دینا دراصل آئین کے اسی بنیادی ڈھانچے سے انحراف ہے۔

جمہوریت کی اصل روح اختلافِ رائے میں مضمر ہوتی ہے۔ پارلیمان اسی لیے وجود میں آتی ہے کہ وہاں بحث ہو، دلائل دیے جائیں، اختلاف کیا جائے اور بالآخر اجتماعی دانش کی بنیاد پر قانون سازی ہو۔ اگر پارلیمان کے اندر ہی اختلاف کو قابلِ سزا عمل قرار دے دیا جائے تو پھر جمہوریت محض عددی اکثریت کا نام رہ جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جانب سے اس قانون پر اعتراض ایک آئینی اور نظریاتی مؤقف کے طور پر سامنے آیا۔ اس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر اسے مجرمانہ رنگ دینا سیاسی برداشت کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔

یہاں ایک اور اہم نکتہ بھی سامنے آتا ہے اور وہ ہے پارلیمان کے اختیار کی حدود۔ پارلیمان یقیناً قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے، مگر یہ اختیار مطلق نہیں۔ وہ بھی آئین کی پابند ہے۔ اگر عددی اکثریت کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ آئینی تقاضوں سے بالاتر ہو کر قانون بنائے اور پھر اس پر سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرا دے تو پھر آئین کی حیثیت محض ایک علامتی کتاب کی رہ جائے گی۔ آئینی ریاست میں ہر قانون کو آئینی معیار پر پرکھا جانا چاہیے، اور اگر اس میں تضاد پایا جائے تو اسے درست کرنا ہی جمہوری طریقہ ہے۔

اس بحث میں ترقی اور جدیدیت کا تصور بھی زیرِ غور آتا ہے۔ بعض حلقے ہر اس قانون کو جدید اور ترقی پسند قرار دیتے ہیں جو مغربی معاشروں میں رائج ہو، خواہ وہ ہمارے سماجی، مذہبی یا آئینی ڈھانچے سے مطابقت رکھتا ہو یا نہیں۔ یہ حقیقت نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان ایک نظریاتی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور اس نظریے کو آئین میں واضح طور پر جگہ دی گئی ہے۔ ترقی اگر اپنی آئینی اور تہذیبی بنیادوں سے کٹ کر حاصل کی جائے تو وہ پائیدار نہیں ہوتی۔ حقیقی ترقی وہی ہوتی ہے جو معاشرے کی اقدار، تاریخ اور آئینی ڈھانچے سے ہم آہنگ ہو۔

اس تمام بحث کا ایک تلخ پہلو اخلاقی تضاد بھی ہے۔ سزا کا مطالبہ کرنے والی بعض شخصیات کی سیاسی زندگی خود سوالات اور الزامات سے مبرا نہیں رہی۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ جن لوگوں کی اپنی ساکھ متنازع رہی ہو وہ کس اخلاقی جواز کے ساتھ دوسروں کو آئین شکنی کا مرتکب قرار دے سکتے ہیں۔ سیاست میں اخلاقی اعتبار محض ذاتی معاملہ نہیں بلکہ عوامی اعتماد کا بنیادی عنصر ہے۔ جب اعتماد متزلزل ہو جائے تو بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔

عملی کارکردگی کے میدان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ صوبہ سندھ برسوں سے انہی سیاسی قوتوں کے زیرِ اقتدار ہے جو آج آئینی بالادستی کے دعوے کر رہی ہیں۔ بدامنی، کچے کے ڈاکوؤں کی سرگرمیاں، غربت، تعلیمی اور انتظامی مسائل جیسے سنگین معاملات اپنی جگہ موجود ہیں، مگر ان پر وہ شدت دکھائی نہیں دیتی جو نظریاتی اختلاف پر نظر آتی ہے۔ یہ تضاد اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ اصل مسئلہ عوامی مفاد نہیں بلکہ بیانیے کی برتری ہے۔

اصل سوال بہرحال وہی ہے کہ آئین کی پاسداری کس نے کی اور انحراف کس نے کیا۔ اگر آئین کی ایک واضح شق کی بنیاد پر کسی قانون پر سوال اٹھایا جائے تو اسے آئین شکنی کہنا منطقی نہیں۔ آئین کی روح یہی ہے کہ اسے معیار بنایا جائے۔ اگر اس معیار کو نظرانداز کر کے قانون سازی کی جائے اور پھر تنقید کرنے والوں کو سزا دینے کی بات کی جائے تو یہ طرزِ عمل آئینی ریاست کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا۔

تاریخ کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ وہ معاشرے زیادہ دیر تک مستحکم نہیں رہتے جہاں اختلافِ رائے کو دبایا جائے اور آئینی سوالات کو طاقت کے ذریعے خاموش کرایا جائے۔ وقتی طور پر ایسی روش شاید سیاسی فائدہ دے، مگر طویل المدت طور پر یہ فکری جمود اور داخلی تقسیم کا باعث بنتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ برداشت، مکالمہ اور آئین کی حقیقی بالادستی ہے، نہ کہ ایک دوسرے کو مجرم ثابت کرنے کی دوڑ۔

یہ معاملہ کسی ایک قانون یا ایک شخصیت کا نہیں بلکہ ریاستی سمت کا ہے۔ اگر آج آئینی بنیادوں پر سوال اٹھانے کو جرم قرار دے دیا گیا تو کل کوئی اور بھی اسی دائرے میں آ سکتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں طاقت کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ اختلاف کو برداشت کرتے ہیں یا نہیں۔ آئین کو اگر واقعی بالادست تسلیم کیا جائے تو ہر قانون اسی کے تابع ہونا چاہیے اور ہر سوال کا جواب دلیل سے دینا چاہیے، نہ کہ سزا کی دھمکی سے۔

بالآخر فیصلہ ہمارے اجتماعی رویے پر منحصر ہے۔ کیا ہم آئین کو محض حوالہ سمجھتے ہیں یا اسے واقعی رہنما اصول مانتے ہیں؟ اگر آئین ہی معیار ہے تو پھر اس کے مطابق بات کرنے والوں کو مجرم قرار دینا انصاف نہیں۔ اور اگر آئین کو نظرانداز کرنا ہی ترقی کا نیا نام ہے تو پھر ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم آئینی ریاست کے تصور سے دور جا رہے ہیں۔ تاریخ خاموش نہیں رہتی؛ وہ ہر دور کے فیصلوں کو محفوظ رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب مستقبل ہماری سمت کا جائزہ لے گا تو کیا ہم آئین کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے یا وقتی سیاسی مفاد کے ساتھ۔ 

1/Post a Comment/Comments

  1. اللہ تعالیٰ ہمیں اہل حق کا ساتھ دینے کی توفیق دیں

    جواب دیںحذف کریں

ایک تبصرہ شائع کریں