وزیر اعلیٰ کے پی سہیل افریدی وفد کے ہمراہ مفتی محمود مرکز آمد، قائد جمعیت سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

وزیر اعلیٰ کے پی سہیل افریدی وفد کے ہمراہ مفتی محمود مرکز آمد، قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن مدظلہ سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس

08 جون 2026

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمده و نصلی علی رسولہ الکریم 

سب سے پہلے تو میں ایک بار پھر جناب وزیر اعلیٰ صاحب کا اور ان کے وفد کا خیر مقدم کرتا ہوں اور شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ہمارے جمعیۃ کے اس مرکز کو عزت بخشی۔

انہوں نے جن نکات کی بات کی ہے میرے خیال میں شاید گفتگو لمبی ہونے کے خوف سے انہوں نے مختصر کرکے بات کی ہے۔ بہت سے نکات پر اتفاق رائے ہے۔ این ایف سی ایوارڈ ایک خالصتاً ایک آئینی حق ہے صوبوں کا، اور جس میں اضافہ تو ہو سکتا ہے لیکن کمی نہیں کی جاسکتی۔ یہ صوبائی حق ہے جو پارلیمنٹ کے اتفاق رائے کے ساتھ تسلیم کیا گیا ہے اس پر کسی قسم کا کوئی ہم اس کے خلاف کوئی اقدام کو قبول نہیں کر سکتے تھے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ صوبائی حقوق، صوبائی خود مختاری یہ تمام صوبوں کو یقینی بنانا چاہیے اور ہر صوبے کے عوام اپنے وسائل کے خود مالک ہیں، کوئی وفاق یا وفاق کے کسی سطح کا کوئی طاقتور ادارہ وہ صوبے کے عوام کے وسائل پر قبضہ کر لیں، اس کو اپنے قبضے میں لینے اور صوبے کے عوام کو اس کے مفادات سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس پر ہمارا اتفاق ہے اور میں توقع رکھتا ہوں کہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت وہ صوبے کے اس حق کے لیے اپنا بھرپور آئینی کردار ادا کرے گی۔

صوبے کا امن و امان کا مسئلہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہمارے صوبے کے امن و امان کی صورتحال بہت ہی مخدوش ہے، خاص طور پر جنوبی اضلاع میں جیسے حکومتی رٹ تک ختم ہو گئی ہو اور عام آدمی وہ مسلح گروہوں کے رحم و کرم پر ہے، اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے؟ اس کے عوامل کا کیا جائزہ لیا جائے؟ تاکہ ان کے عوامل کا خاتمہ ہو اور ہم صوبے میں امن و قرار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

ہم نے ان کے سامنے یہ بات بھی رکھی ہے کہ وفاق کی سطح پر دینی مدارس کے رجسٹریشن کا قانون پاس ہو چکا ہے، صوبے میں اس قانون کو من و عن اسمبلی سے پاس کرایا جائے اور اس پر عمل درآمد ہو جس طرح کے قانون کہتا ہے۔

ہمارے جو قبائل ہیں جسے ہم فاٹا کے علاقے سے تعبیر کرتے ہیں، ہم نے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا، لیکن عملاً اب تک وہ ضم نہیں ہو سکا ہے، ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے، مشکلات میں کمی نہیں ہوئی، ان کے جو واجبات تھے وہ شاید اب تک بھی ہم پورے نہیں کر سکے ہیں، 2017 میں یہ فاٹا مرج ہوا تھا، آج 2026 ہے اور اس کے باوجود وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، وہاں جو قوموں کی ملکیتی زمینیں تھیں یا علاقے تھے یا پہاڑ تھے، صحرائے تھی، ابھی تک اس کو بندوبستی علاقے کے طور پر تقسیم نہیں کیا جا سکا ہے، نہ وہاں پٹواری جا سکتا ہے نہ وہاں قانون گو جا سکتا ہے، نہ وہاں تحصیل دار جا سکتا ہے اور ہمارے بلوچستان ہو یا ہمارا خیبر پختونخواہ ہو اس کے پہاڑوں میں، صحراؤں میں جو معدنی ذخائر ہیں اس کو قبضے میں لیا جا رہا ہے، طاقتور قوتیں وہاں پر کھدائیاں کر رہی ہیں اور ہمارے صوبے کے غریب لوگوں کی ملکیت اس کو اپنے قبضے میں لے رہی ہے، ہم جانتے ہیں کہ ریاست وہ ان معدنی ذخائر کی حفاظت کے ذمہ دار ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ وہاں کے عوام اور عام آدمی، وہاں کے بچوں کے حقوق کو غصب کر لے اور ان کو محروم کر دیں۔ اس حوالے سے بھی ہماری سوچ ایک ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے لیے ہماری ایک مشترکہ حکمت عملی ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنے غریب صوبوں کے غریب بچوں کے وسائل کو ان کے حق میں استعمال کر سکیں اور ان کے منافع ہم ان کو دلا سکیں۔

اسی طریقے سے جیسے کہ چیف منسٹر صاحب نے ذکر بھی کیا کہ پنجاب سے گندم کی جو ترسیل ہے اس پر پابندی لگائی گئی ہے اور وہ آئین کی خلاف ورزی ہے، کسی زمانے میں جب میاں شہباز شریف صاحب صوبے کے وزیراعلی تھے، تو یہ اس زمانے سے وطیرہ چلا ا رہا ہے، لیکن جب ہم ان سے شکایت کرتے تھے تو کہتے تھے کہ جی ہم تو اجازت دے دیں گے لیکن یہ گندم جب آپ کے صوبے میں جائے گا تو پھر افغانستان سمگل ہوگا، افغانستان سے سمگل ہوگا، ہم نے کہا کہ نہیں ہمارے لوگ پنجاب جاتے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، کٹائی میں شریک ہوتے ہیں، برداشت میں شریک ہوتے ہیں، اپنی مزدوری لے کر واپس اتے ہیں، آپ کس طرح ان کی مزدوری جو ہے ان کے گھر تک انے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں اور آج ہم کہتے ہیں ان کو، کہ آپ ہی نے تو سرحد بند کی ہوئی ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی بند ہے تو پھر سمگلنگ کا کیا تصور ہو سکتا ہے؟ تو اس صورتحال میں بھی ہمارے صوبے کے عوام کے لیے گندم کی بندش جو ہے آئین کی بھی خلاف ورزی ہے، انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے اور یہاں کے غریب لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

اس کے علاوہ کل جی بی میں، گلگت بلتستان میں جو الیکشن ہوئے ہیں میں ابھی اس تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا لیکن وہاں سے جو ہمیں انیشیل اطلاعات موصول ہوئی ہیں تو اس حوالے سے ہمارا اس پر اتفاق ہے کہ ہم جی بی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں۔

تو یہ کچھ نکات تھے جس پر بات ہوئی۔

سوال و جواب

صحافی: مولانا صاحب! آپ کے ہاں آپ کے در پر ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ تحریک انصاف کی وفود جاتے رہے ہیں، اسلام اباد میں آپ کی ملاقاتیں ان سے ہوتی رہی ہیں، اسد قیصر صاحب بھی یہاں پہ موجود ہیں اور اس سارے سلسلے پر جے یو ائی اور پی ٹی ائی کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی بھی بڑی نظریں ہوا کرتی تھیں اور تاثر یہ تھا کہ آپ نے کبھی پکڑا ہی نہیں ہے ان کو، آج لگ رہا ہے کہ آپ نے تھوڑی بہت پکڑائی دی ہے، ہم زندہ رہیں گے تو این ایف سی بھی ہوگا اور وفود بھی ہوں گے۔ یہ جو امن و امان کا مسئلہ ہے اس پر اتفاق کیا ہوا ہے، کہ کس طریقے سے اس مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے؟

مولانا صاحب: دیکھیے میں اپنی بات کر لیتا ہوں اور میرا خیال میں یہی حق پی ٹی ائی کو بھی ہے کہ میں یہ چاہوں گا کہ وفاق میں ان تمام معاملات پر تمام پارٹیوں کو انگیج کیا جائے چاہے اس کا تعلق اپوزیشن کے ساتھ ہو، چاہے ان کا تعلق حکومت کے ساتھ ہو، ہم گورنمنٹ کی پارٹیوں کے ساتھ بھی بات کرنا چاہیں گے اور میں یہ چاہوں گا کہ صوبائی حکومت بھی یہاں پر تمام پارٹیوں کو انگیج کریں تاکہ صوبوں کے حقوق کے لیے یا ملک کے مفادات کے لیے ہمارا ایک کونسینسز ہو، اجماع ہو اور اس پر حکومت اور اپوزیشن کی سیاست ہمیں نہیں کرنی، بلکہ ہم نے ملک کی سیاست کرنی ہے اور ہم نے صوبے کی سیاست کرنی ہے، تاکہ صوبائی خود مختاری کے حوالے سے جو میرے صوبے کے حقوق ہیں ان کے تحفظ کے لیے ہم مل کر کام کر سکیں اور وفاق کی سطح پر ہم تمام پارٹیوں کے ساتھ رابطہ کر کے یہ امور جو ہمارے ملک کے ہیں اور جس کو آج متنازعہ بنایا جا رہا ہے اس پر ہم یکجہتی پیدا کرنے کی ایک کوشش تو کریں۔

صحافی: مولانا صاحب یہ بتائیں کہ جن امور پر آپ دونوں جماعتوں کا یا حکومت کا اتفاق ہوا ہے اس کو اگے کیسے بڑھایا جائے گا، پارلیمنٹ کی سطح پر ہوگا، دونوں جماعتوں کے درمیان ہوگا اور کیا دونوں جماعتیں سڑکوں پر آ سکتی ہیں؟

مولانا صاحب: دیکھیے بات یہ ہے کہ ہم جب بسم اللہ سے بات شروع کرتے ہیں تو آپ والناس پہ کھڑے ہو کر سوال کرتے ہیں، تو ابھی کچھ تو سفر کرنے دیں آج ہم بیٹھے ہیں ابھی ہم سورۃ فاتحہ میں کھڑے ہیں، بہرحال اس حوالے سے یہ اچھی ابتدا ہے، ایک اچھا ماحول ہے، ہمیں اس کو مزید بہتر کرنا چاہیے اور مزید بہتری ملک کی سیاست میں پیدا کر کے ہمیں اگے بڑھنا چاہیے۔

صحافی: مولانا صاحب! کیا کہیں گے بجٹ پہلے دس تاریخ کو، اب بارہ تاریخ کو وفاقی حکومت اگے لے کے جا رہی ہے، پیپلز پارٹی کے ساتھ ملاقات چل رہے ہیں بجٹ کے حوالے؟

مولانا صاحب: حضرت یہ حکومت کے ذمہ داری ہے، پہلے ہم سن رہے تھے یکم جون کو پیش ہو رہا ہے، پھر ہم سن رہے تھے پانچ کو پیش ہو رہا ہے، پھر سن رہے تھے دس کو پیش ہو رہا ہے، اج آپ کہہ رہے ہیں بارہ کو پیش ہو رہا ہے، اب اس میں حکومت کی کیا مجبوریاں ہیں اس کا ہمیں اطلاع نہیں ہے لیکن بہرحال کچھ تو ہے۔

بہت بہت شکریہ 

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments