مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا پشین بلوچستان میں حقوق بلوچستان و تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا پشین بلوچستان میں حقوق بلوچستان و تحفظ مدارس دینیہ کانفرنس سے خطاب

04 جون 2026 

الْحَمْدُ للهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُهٗ وَنَسْتَغْفِرُهٗ وَنُؤْمِنُ بِهٖ وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ اَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِیَ لَهُ، وَنَشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهٗ لَا شَرِیْکَ لَهٗ، وَنَشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُهٗ، صَلی ٱللَّه تعالی عَلی خَیرِ خَلقِه مُحَمَّد وَعَلی اٰلِه وَصَحبِِه وَبَارَک وسَلَّم تَسلِیماً کثیراً کثیراً. أما بعد فأعوذ بِٱللَّهِ مِنَ الشَّیطنِ الرَّجِیم، بِسمِ ٱللَّهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم۔ وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۚ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ۚ وَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔ صدق اللہ العظیم۔

جناب صدر محترم، میرے بہت ہی عزیز اور گرانقدر مسلمان بھائیوں! پشین میں آج کا یہ جلسہ پشین کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہے، آپ جس اخلاص، جس محبت اور جس جذبے کے ساتھ اس جلسے میں شرکت کی ہے، یہ اسلام سے محبت، جمعیۃ علماء اسلام سے محبت اور جمعیۃ علماء اسلام پر ایک مظبوط اعتماد اور یقین کا اعلان ہے اور ان شاءاللہ یہ اعتماد قیامت تک قائم و دائم رہے گی ان شاءاللہ۔

میرے محترم دوستو! پشین کی تاریخ کا یہ بڑا جلسہ آپ کے اعتماد میں بہت بڑے اضافے کی علامت ہے، دنیا کی کوئی طاقت ہمارے اس رشتے کو نہیں توڑ سکتی، ان شاءاللہ یہ رشتہ اور مضبوط ہوتا رہے گا۔

میرے محترم دوستو! یہ جمعیۃ علماء اسلام کا ناقابل تسخیر قلعہ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت جمعیۃ علماء اس قلعے کو فتح نہیں کرسکتی، آپ کے سامنے رکاوٹیں ڈالی گئیں جس کا تذکرہ ابھی ہوا لیکن کوئی رکاوٹ کارگر ثابت نہیں ہوئی اور اللہ نے آپ کے لئے راستے کھولے، حالات بنے اور ہم آج پوری دنیا کو اس میدان سے ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔

میرے محترم دوستو! جمعیۃ علماء اسلام ایک تحریک ہے، جمعیۃ علماء اسلام جہد مسلسل کا نام ہے، جمعیۃ علماء اسلام ایک قابل فخر ماضی ہے، جمعیۃ علماء اسلام ایک تابناک تاریخ ہے۔ جس کے پشت پر دو سو سال سے زیادہ کی قربانیاں ہیں اور ان شاءاللہ یہ تحریک آگے بڑھے گی اور اپنے مقاصد تک پہنچے گی۔

میرے محترم دوستو! پاکستان کی تاریخ دیکھ لیں، وہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا لیکن اسے آئین نہیں ملا اور جب آئین ملا تو جمعیۃ علماء اپنے سات اراکین کے ساتھ مفکر اسلام میرے قبلہ گاہ رحمہ اللہ کی قیادت میں اس نے پاکستان کو ایک اسلامی آئین دیا، پاکستان میں اسلام ایک مملکتی نظام قرار پایا، ملک کو اس بات کا پابند بنایا کہ یہاں قانون سازی قرآن و سنت کے مطابق ہوگی، قرآن و سنت کے مخالف کوئی قانون سازی نہیں ہوگی، ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو آپ کی قیادت نے پارلیمنٹ میں آپ کے عقیدہ ختم نبوت کی نمائندگی کی، ترجمانی کی اور اللہ نے ہمیں فتح نصیب کیا۔ الیکشن کے بعد جب پشین میں پہلا جلسہ ہوا تھا اور میں آپ کے پاس حاضر ہوا تھا تو ہمیں ایک شکایت تھی کہ سپریم کورٹ نے ختم نبوت کے حوالے سے ایک غلط فیصلہ دیا ہے، لیکن ملک میں ہنگامہ ہوا اور پھر مجھے عدالت میں بلایا گیا سپریم کورٹ میں اور چند گھنٹوں کے اندر اندر سپریم کورٹ کو اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور جس طرح ہم نے کہا جس طرح ہم نے لکھوایا، وہی فیصلہ سپریم کورٹ سے صادر کیا گیا، ہم نے اپنے تحریک کے تسلسل میں نظریاتی لحاظ سے شکست نہیں کھائی، جو امتحان آیا، جو چیلنج سامنے آیا ہم نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کیا اور اپنے ووٹر کو، اپنے کارکن کو، اپنے قوم کو، اس کے اسلامی جذبے کو ہم نے شرمندہ نہیں ہونے دیا۔

میرے محترم دوستو! آج جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی سب سے بڑی عوامی قوت ہے، میں دعوے سے بات کرتا ہوں، ہم نے ایک زمانے سے عوام سے رابطہ کیا جب بھی ہم نے پاکستان کے عوام کو آواز دی قوم نے ہماری آواز پر لبیک کہا اور ہم نے اپنے جلسوں کے ریکارڈ توڑے، عوام کیوں ہمارے آواز پر اکٹھی ہوتی ہے؟ پبلک کیوں ہمیں خوش آمدید کہتی ہے؟ ہم نے ابھی کراچی میں ایک ضلع کا جلسہ کیا اور وہ ایک ضلع کا جلسہ بھی ملین مارچ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہم چاروں صوبوں میں عوام کے پاس جا رہے ہیں باوجود اس کے کہ ہم نشانے پر ہیں، ہمارے کارکنوں کو شہید کیا جا رہا ہے، ہمارے علماء کرام کو اور اساتذہ کرام کو گولیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہماری جماعت دہشتگردوں کی دہشتگردی کے زد میں ہے لیکن اس کے باوجود میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں اس ملک میں اگر فرقہ وارانہ فسادات ابھرے، فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرتیں پیدا کی گئی جمعیۃ علماء اسلام نے اس فرقہ وارانہ نفرتوں کی سیاست کو شکست دی ہے۔ ہم نے نفرتیں نہیں پھیلائیں، ہم قوموں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن محبت کے علم کے ساتھ، ہم نے پشتون بلوچ کی نفرتوں پر سیاست نہیں کی، ہم نے مہاجر سندھی کی نفرت پر سیاست نہیں کی، ہم نے سرائیکی پنجابی کی نفرت پر سیاست نہیں کی، ہم نے ایک قوم، ایک مسلمان قوم، ایک پاکستانی قوم، ایک متحدہ قوم کی بنیاد پر محبتوں کا پیغام دیا ہے لیکن یہ کہہ کر کہ ہم پاکستان کے ہر صوبے اور ہر قومیت کے حقوق کی تحفظ کی جنگ لڑیں گے۔ جس طرح ہم نے فرقہ واریت کو اس کی بنیاد پر نفرتوں کو شکست دی ہے، جس طرح ہم نے قومیتوں کی بنیاد پر نفرتوں کو شکست دی ہے، صوبائیت اور نفرتیں، قومیت اور نفرتیں، لسانیت اور نفرتیں، علاقائیت اور نفرتیں، فرقہ واریت اور نفرتیں، اس سیاست کو اگر ملیامیٹ کیا ہے تو جمعیۃ علماء اسلام کی اس تحریک نے کیا ہے۔ لیکن قوم کو کون لڑا رہا ہے؟ جو قوم پرست کہے جاتے ہیں ان میں تو اتنی جان نہیں ہے وہ بیچارے تو بس، ہم نے الحمدللہ جو سیاست کی ہے پاکستان کی بقاء کی سیاست کی ہے، اگر قوم کو لڑایا ہے فرقوں کی بنیاد پر لڑایا ہے، اگر قوم کو لڑایا لسانیت کی بنیاد پر لڑایا، نفرتوں کی بنیاد پر لڑایا، تو جمعیۃ علماء نے قوم کو متحد کرنے کی جنگ لڑی اور پاکستان کی بیوروکریسی اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ قوم کو لڑا کر ان پر حکومت کرنے کی کوشش کی ہے اور عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے اور اگر تم نے شرم کی حد پار کی ہے تو میں کیا کروں۔ اگر تم کبھی تلوار چلائی ہے میں آپ کا ساتھی ہوں، ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، میں نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے اور آپ کے راستے بند نہیں کیں ہیں، ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟

کہتے ہیں افغانستان میں دہشتگردوں کے مراکز ہیں، ہم افغانستان پر اس لیے حملے کرتے ہیں کہ وہاں دہشتگردوں کے مراکز ہیں، تو دہشتگرد نے تو بنوں میں آپ سے تھانے قبضہ کیں، فوجی مراکز قبضہ کیں، آپ کے قلعوں پر حملے کیں، یہاں اپنے ملک میں آپ کو دہشت گرد نظر نہیں آرہے، ان کے مراکز نظر نہیں آرہے اور افغانستان میں آپ کو نظر آرہے ہیں اور وہاں جاکر بمباریاں کرتے ہو۔

محترم دوستو! مانتا ہوں کہ قوم ہمارے ساتھ ہیں، قوم جمعیۃ علماء کے ساتھ ہیں لیکن کہاں ہے جمہوریت تاکہ عوام کی رائے قبول ہو جائے، عوام ووٹ ہمیں دیتی ہے اور باکس سے کسی اور کے نام نکلتے ہیں۔ نتائج تبدیل میں جاتے ہیں اور میں یہ بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان دھاندلیوں کا خود گواہ ہوں اور ان لوگوں نے بھی ہمارے سے مان لیا ہے۔ میں کوئی ایسی ویسی بات نہیں کرتا ہے کہ کسی پر خواہ مخواہ الزام لگا رہا ہوں اور ان الزامات پر سیاست کرتا ہوں، ہم صاف اور شفاف سیاست کرتے ہیں۔ آپ نے ہر حربہ استعمال کیا ہے ہمیں بدنام کرنے کے لیے، الزام تراشیاں لگانے کے لیے، لیکن سب پر شرمندہ ہوگئے ہو اور الحمدللہ آج اتنی بڑی اجتماع میں، میں ان کے سامنے سرخرو اور تم شرمسار ہوکر کھڑے ہو۔ لیکن ایک بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں اب جمہوریت کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہے، جمہوریت وہی ہے جو ٹرمپ کی شکل میں آپ دیکھ رہے ہیں۔ تو ٹرمپ جو باتیں کرتا ہے اور جس طرح وہ چلتا ہے اسی ڈھانچے میں کہیں جمہوریت نظر آرہی ہے؟ جمہوریت کا یہ حال ہوگیا جس طرح ٹرمپ کا حال ہے۔ مغربی دنیا سرمایہ دارانہ نظام کو دوبارہ مستحکم کر رہا ہے، سرمایہ داریت سامنے آرہی ہے، جمہوریت کو دفن کیا جا رہا ہے اور یہاں پاکستان اور افغانستان کے علاقوں میں کچھ ایسی تنظیمیں موجود ہیں کہ جن کی باگ ڈور مغرب سے ہل رہے ہیں، وہی جمہوریت کا خاتمہ کر رہے ہیں اور یہ بھی جمہوریت کی بنیاد پر فتوے لگا رہے ہیں۔

یہی وہ چیزیں ہیں اس پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہوئیں، لابیوں نے کام شروع کیا اور الحمدللہ جمعیۃ علماء اسلام نے کراچی میں پہلا ملین مارچ کیا اور پھر ملک بھر میں تحریک چلائی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشیں پاکستان میں شکست کھا گئیں، یہ ہے جمعیۃ علماء کی سیاست، اسی لیے جمعیۃ علماء واضح طور پر کہتی ہے کہ اسلامی دنیا کو ایک اسلامی بلاک بننا پڑے گا، جمعیۃ علماء اسلام کا منشور ایک اسلامی بلاک کی بات کہتا ہے اور جب سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوا تو ہم نے اسلامی بلاک کی طرف اس کو ایک قدم قرار دے دیا اور پاکستان نے اس کی حمایت کی، لیکن اسرائیل کے ناپاک وجود کو ختم کرنے کے لیے اسلامی دنیا کو ایک ہونا ہوگا اور میں آج بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں یہ صلاحیت موجود ہے، حکمرانوں کے عزم کا مسئلہ ہے، ان کے قوت ارادی کا مسئلہ ہے وہ کمزور ہیں، حکمران کمزور ہیں، پاکستان کمزور نہیں اور اگر ان حکمرانوں سے آپ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اسلامی دنیا کے اتحاد کی طرف آگے بڑھیں گے اور وہ عالمی استعمار کے خلاف آواز بنیں گے، وہ مغرب کے جبر کے خلاف لڑیں گے، ان سے ہمیں کوئی توقع نہیں ہے۔ جمعیۃ علماء کو آگے آنا ہوگا اور ان شاءاللہ ہم اس قوم کی نمائندگی کریں گے ان شاءاللہ

آج بھی وقت ہے کہ پاکستان آگے بڑھے، سعودی عرب آگے بڑھے، مصر آگے بڑھے، ترکی آگے بڑھے، ایران آگے بڑھے، انڈونیشیا آگے بڑھے، ملیشیا آگے بڑھے اور یہ بڑے ممالک مل کر ایک اسلامی دنیا کا بلاک بنائیں، ہم تو ایشیائی ممالک کے اتحاد کے بھی علم بردار ہیں۔ حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اور اس کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی رحمہ اللہ نے ایشیاٹک فیڈریشن کا تصور پیش کیا تھا، لیکن ہم یہاں علاقائی تنازعات میں اس طرح گھر جاتے ہیں کہ ہم اپنے پڑوسی کے ساتھ پرامن ماحول نہیں بنا سکتے، چہ جائے کہ اسلامی دنیا کے ساتھ ہم ایک مضبوط معاہدہ کریں اس کی سوچ کی تبدیلی کی ضرورت ہے، یہاں تو ایک طاقتور ذہن کہتا ہے کہ جو ہم کہتے ہیں وہی پاکستان کی وفاداری ہے، میں معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تاریخ ہماری گزر چکی ہے یہ انگریز کا ورثہ ہے، برصغیر میں جو انگریز کا مخالف تھا ہزار مرتبہ وہ ہندوستان کا وفادار ہو لیکن انگریز کے مخالف کو وہ غدار کہتا تھا اور جو انگریز کا خوش آمدگر، اس کے ٹکڑوں پر پلنے والے، ان کو جاگیریں عطاء کی، وہ بڑے وفادار نکلے۔ آج پاکستان میں ہزار بار پاکستان کے وفادار بن جائیں لیکن اگر اسٹیبلیشمنٹ کی رائے سے اختلاف کیا تو آپ کو غدار کہا جاتا ہے، یہ وہی روایات ہیں جو اس زمانے سے ہماری اس ملک میں چلی آرہی ہیں، اس فکر کو تبدیل کرنا ہوگا، اس سوچ کو تبدیل کرنا ہوگا، ان ترجیہات کو تبدیل کرنا ہوگا اور ان شاءاللہ اگر ہم نے فرقہ واریت کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قادیانی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے اسرائیلی لابی کو شکست دی ہے، اگر ہم نے قوموں کے درمیان نفرتیں پھیلانے والی سیاست کو شکست دی ہے تو ان شاءاللہ ہم اس ذہنیت کو بھی شکست دیں گے کہ پاکستان کے وفادار کو کیوں غدار کہا جاتا ہے، اگر وہ اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف رائے کرے گا۔

آئیں! ہم پاکستانی ہیں، معاملات ٹھیک کرو، ہم اس قوم کے افراد ہیں، ہمیں مطمئن کرو یہ کیا الیکشن ہے اور دھاندلی کر کے اپنی اسمبلیاں بنا دی، اگر اس طریقے سے یہاں پر اگر یہ اسمبلیاں بنی ہیں، سندھ کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، پنجاب کی اسمبلی جس طرح بنی ہے، یہ سارے کے سارے وہ سوالات ہیں جو ہمارے ملک کی سیاسی نظام کے اوپر ہیں، ہم نے یہ جنگ لڑنی ہیں اور ان شاءاللہ قوم ایک ہوگی تو جیتیں گے ان شاءاللہ

میرے محترم دوستو! ہم نے اُن حالات کی طرف جانا ہے جب ہم پاکستان کو ایک کرسکیں گے ان شاءاللہ، آج بھی اگر پاکستان قائم ہے میں بات تو بڑی کر رہا ہوں شاید آپ کہیں چھوٹی منہ اور بڑی بات، لیکن میں پوری قوم پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ آج اگر پاکستان متحد ہے، آج اگر پاکستان کی عوام ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تو جمعیۃ علماء کے کردار کے وجہ سے، تم نے تو نفرتیں پیدا کیں ہیں یہاں پر، تم نے تو قوموں کو لڑایا ہے انسانی حق کے نام پر، انسانی حق وہ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ہو، اللہ نے جو ضابطہ اور قانون عطاء کیا ہے وہ انسانی حقوق کا محافظ ہے، ہم اگر پاکستان میں بات کرتے ہیں تو ہم بلوچستان میں بلوچ صوبے کے حقوق کی بات کرتے ہیں، اگر ریاستی قوت نے پشتون بیلٹ کی قوموں کی زمینوں پر قبضہ کیا ہے، اگر ریاستی قوتوں نے بلوچوں کی زمینوں پر ان کے پہاڑوں پر قبضہ کیا ہے، تو میں ان کو واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم بلوچستان کے چاہے پشتون عوام ہو چاہے، بلوچ عوام ہو، ان کی ایک انچ زمین بھی آپ کے حوالے نہیں ہونے دیں گے۔

میرے محترم دوستو! آج کے حالات میں، میں پاکستان پیپلز پارٹی کو براہ راست مخاطب کر کے کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قیادت میں پاکستان کا آئین بنا، میرے والد نے اس پہ دستخط کیا ہے، میں تو اس آئین کو تحفظ دینے کا عزم کر رہا ہوں، آپ کے دیکھا دیکھی اگر اس آئین کو ختم کر دیا گیا، صوبوں کے حقوق تباہ و برباد کر دیا گیا، صوبوں کا باہمی اعتماد خراب کر دیا گیا، تو آپ بتائیں کہ پھر آپ ذوالفقار علی بھٹو کے راستے پہ جا رہے ہیں؟ آٹھارویں ترمیم ہوئی، مارشل لاو نے آئین کو جتنا خراب کیا تھا، گند کر دیا تھا، آٹھارویں ترمیم کے ذریعے اس کو صاف کیا گیا، آپ کی حکومت تھی اور ہم مل کر ایک کمیٹی میں بیٹھے، نو مہینے تک ہم نے پورے آئین کو صاف کیا اور متفقہ طور پر ایوان سے پاس کرایا، آج ہم اس آٹھارویں ترمیم کے تحفظ کی بات کرتے ہیں، آپ کیوں خاموش ہیں؟ تم کیوں کمزوری دکھا رہے ہو؟ کس بات کی کمزوری دکھا رہے ہو؟ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم صوبوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جو آٹھارویں ترمیم میں ہم نے طے کیں تھے، ہم اس آئین کے حفاظت کرنا چاہتے ہیں، جو آئین ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا تھا، تو جب ہم چاہتے ہیں کہ وہ محفوظ ہو آپ کیوں پیچھے ہٹیں گے اور آپ کیوں سودے کریں گے۔

یہاں آپ کو پتہ نہیں ہے شاید، آپ کے صوبے میں بلوچستان میں آپ کو پتہ ہے یہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، آپ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ یہاں پر پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، اب یہاں پر ہم ان کو بھی کہنا چاہتے ہیں کہ آئین کو بچاؤ، جمعیۃ علماء اسلام نے چھبیسویں آئینی ترمیم میں سود کے خاتمے کا فیصلہ لیا حکومت سے، اکتیس دسمبر دو ہزار ستائیس کو اس ملک میں سود کا خاتمہ ہوگا اور یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس کے بعد پاکستان میں سود کا نظام نہیں رہے گا، لیکن کیا کچھ پیشرفت ہوئی ہے؟ بظاہر ہمیں کوئی پیشرفت نظر نہیں آ رہی ہے، ہم نے آئین میں ترمیم کرائی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بحث و تمحیص کے لیے ایوان میں جائیں گے، آج تک اسلامی نظریاتی کونسل کی کوئی سفارش ایوان میں بحث کرنے کے لیے پیش نہیں کی گئی، یہ تمہاری نیتیں ہیں، یہ تمہاری ادارے ہیں، دینی مدارس کے بارے میں متفقہ طور پر قانون پاس کیا گیا مدارس کے رجسٹریشن ہوگی اور مدارس کے بینک اکاؤنٹ کھولے جائیں گے لیکن مسلسل مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں، قانون پاس ہونے کے بعد مشکلات پیدا کرنا اس سے پتا چلتا ہے کہ تم پاکستان میں دینی مدارس کا خاتمہ چاہتے ہو، تم کہتے ہو ہم دینی مدارس کے فارغ التحصیل فضلاء کو سرکاری ملازمتیں اور روزگار کمانے کا مواقع دینا چاہتے ہیں، میں پوچھتا ہوں آپ سے کہ دینی مدارس کو چھوڑیے آپ کے یونیورسٹیوں کے فضلاء، آپ کے کالجز کے فضلاء لاکھوں کی تعداد میں ڈگریاں بغل میں لیے تمہارے دروازے پر کھڑی ہیں تم ان کو روزگار نہیں دے سکتے اور بات کرتے ہو دینی مدارس کے طلباء کی اور عجیب بات یہ ہے کہ آج کالجز کو سکولوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں دیا جا رہا ہے حکومت اور سرکار اس کی سرکاری حیثیت کو ختم کر رہی ہے، نجی شعبے کو دے رہی ہے، تمہارے انتظام میں چلنے والے سکول وہ تم چلا نہیں سکتے، وہ تم پرائیویٹ سیکٹر میں دینا چاہتے ہو اور دینی مدرسہ جو پرائیویٹ سیکٹر میں کام کر رہا ہے اس کو سرکاری تحویل میں لانا چاہتے ہو، پہلے اپنی ناکامیاں تو چھپا لو، سکولوں کے بارے میں، کالجز کے بارے میں تمہاری ناکامیاں وہاں سے فارغ التحصیل نوجوانوں کے بارے میں تمہاری ناکامیاں، مدرسوں کی فکر ہو گئی، پھر جناب شرائط لگا لیتے ہیں مدرسے والے اس فارم کو پر کریں کہیں ایسا تو نہیں کہ مدرسے کے اندر کوئی دہشتگرد آ جائے اور پڑھے، بھائی کیا دہشتگرد یونیورسٹیوں کے دارالاقاموں سے نہیں پکڑے گئے، کالجز سے نہیں پکڑے گئے، سکولوں سے نہیں پکڑے گئے، جب کالجز سے پکڑے گئے، وہاں سے لاشیں نکلی ہیں ان کی اور وہاں تم کوئی تبدیلی نہیں لا رہے اور سارا دباؤ آ رہا ہے صرف دینی مدرسے پر، میں آج دعوے سے کہتا ہوں کہ تم دینی مدرس کی خیرخواہی میں یہ اقدامات نہیں کر رہے، تم امریکہ اور مغرب کی پیروی میں یہ اقدامات کر رہے ہو۔

تو آج اس جلسے کے ذریعے سے ہم اپنے عزم کا اعلان کریں اور پورے دنیا کو پیغام دیں کہ تمہارا باپ بھی دینی مدرسے کو ختم نہیں کر سکے گا، ان کو پتہ ہی نہیں ہے دینی علم کس کو کہتے ہیں، مدرسے کا اور دینی علم کا خاتمہ انگریز نے کیا، انگریز نے اپنے نصاب سے قرآن و حدیث نکالے، علماء کرام نے سنبھالا، آج بھی تمہارے ہاتھوں قرآن و حدیث کے علوم خطرے میں ہیں، تم آج بھی اس بات میں مصروف ہو کہ مدارس کو آپس میں لڑا دو، علماء کو اپس میں لڑا دو، پتہ نہیں کہاں کہاں کونے کھدرے سے کسی کو نکال لیتے ہو اور کہتے ہو یہ دینی مدرسے کا مہتمم صاحب ہے، بھئی ٹھیک ہے ہمارے لئے قابل احترام ہیں وہ علماء ہیں ہم ان کے ساتھ جنگ نہیں لڑنا چاہتے، لیکن آپ کیوں لڑنے جا رہے ہیں، بہت معمولی لوگوں کو اٹھا لیتے ہو لیکن ہم بھی ہیں کہ چھوٹے لوگوں کو بڑا کہہ دیا میں نے اکثر

ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے

کوئی مسئلہ نہیں ہے ہم جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، اپنے بساط کے مطابق جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، اللہ کی مدد کے ساتھ جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، نیتیں خالص ہوں، اللہ کے دین کی سربلندی مقصود ہو، اعلیٰ کلمتہ اللہ مقصود ہو، میرے ساتھیوں آپ کی نیت اللہ کے کلمے کی سربلندی ہے یہی جہاد ہے اور اس کے علاوہ کوئی جہاد نہیں ہوتا، پریشان نہیں ہونا، حوصلے بلند رکھنے ہیں۔ آج یہاں آپ لوگ اکٹھے ہیں اتنے بڑے اجتماع اس بات کی دلیل ہے کہ قوم جمعیۃ علماء اسلام کو سننا چاہتی ہے اور اس کے موقف کی تائید کرنا چاہتی ہے۔ تم علماء کو قتل کر رہے ہو، علماء کا خون بہا کر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی بڑا مقصد حاصل کر لیں گے، اگر یہ علماء مسلمان نہیں ہیں تو ان کو کافر کہنے والا خود بھی مسلمان نہیں، آپ نے جو سروں پر پگڑیاں باندھی ہیں یہ سر اٹھا کے چلنے کے لیے ہیں، سر جھکا کے چلنے کے لیے نہیں ہیں اور ان شاءاللہ یہ سفر جاری رہے گا، دینی مدارس بھی رہیں گے، آپ کے حقوق کی بھی جنگ ہوگی، بلوچستان کے حقوق، بلوچوں کے حقوق ہوں، پشتونوں کے حقوق ہوں، ہم سب کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم اس اتحاد اور محبت کے پیغام کو یہاں آپ کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں، پورے ملک میں یہ تحریک جائے گی اور ان شاءاللہ ان شاءاللہ اٹھارہ جون کو چارسدہ میں بہت بڑا جلسہ عام جمعیۃ علماء اسلام کرے گی ان شاءاللہ۔

ان شاءاللہ یہ تحریک ہے، یہ جہد مسلسل کا نام ہے، یہ اپنی ماضی کے روشنی میں چلنے والا مستقبل ہے اور ان شاءاللہ اس راستے پر جاتے جاتے اللہ کے سپرد اپنی جان کر دیں گے اور کامیابیاں ان شاءاللہ آپ کی قسمت میں آئیں گی، عزم رہے، نیت صاف رہے، کوئی دنیا کی طاقت آپ کا راستہ نہیں رہ سکتی۔

وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبر ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments