جمعیت کے وکلاء اب میدان میں اتریں، شرافت کا دور ختم ہو چکا ہے
تحریر: محمدریاض
اب وقت آ گیا ہے کہ جمعیت علماء اسلام سے وابستہ وکلاء اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن مسلسل کردار کشی، جھوٹے الزامات، بہتان تراشی، گالم گلوچ اور غیر اخلاقی زبان کو اگر قانون کے ذریعے نہ روکا گیا تو یہ روش مزید مضبوط ہوگی۔ شرافت، خاموشی اور درگزر کو بعض عناصر کمزوری سمجھ بیٹھے ہیں، اس لیے اب قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مؤثر جواب دینے کا وقت آ گیا ہے۔
ملک بھر کے وکلاء، خصوصاً جمعیت علماء اسلام کے لیگل ونگ، بار ایسوسی ایشنز اور قانونی ماہرین کو چاہیے کہ ہر ضلع، ہر تحصیل اور ہر ڈویژن کی سطح پر منظم ہوں۔ جہاں بھی کسی رہنما یا کارکن کے خلاف بے بنیاد الزامات، ہتکِ عزت، کردار کشی یا غیر مہذب زبان استعمال کی جائے، وہاں فوری طور پر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی شروع کی جائے۔ جو شخص الزام لگاتا ہے، اسے عدالت میں اپنے دعوے کے ثبوت بھی پیش کرنے چاہییں۔
یہ کسی ایک شخصیت یا جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اخلاقیات، قانون کی بالادستی اور معاشرتی اقدار کا مسئلہ ہے۔ اگر آج جھوٹ اور بہتان کو قانونی چیلنج نہ کیا گیا تو کل یہی طرزِ عمل ہر سیاسی جماعت، ہر مذہبی شخصیت اور ہر شہری کے خلاف استعمال ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ عدالتوں کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا جائے کہ آزادی اظہار کا مطلب کسی کی عزت و وقار پر بے بنیاد حملے کرنا نہیں۔
جمعیت کے وکلاء کو اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عدالتوں میں بھرپور قانونی جدوجہد کرنی چاہیے۔ جہاں کہیں بھی غیر اخلاقی زبان، کردار کشی یا بے بنیاد الزامات سامنے آئیں، وہاں ہتکِ عزت اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص سیاسی اختلاف کو گالم گلوچ اور بہتان کا ذریعہ بنانے سے پہلے کئی بار سوچے۔
اختلاف دلیل سے کیا جائے، جواب بھی دلیل سے دیا جائے، لیکن اگر کوئی شخص تہذیب، اخلاق اور قانون کی تمام حدیں پار کرے تو پھر اس کا جواب صرف عدالت، قانون اور آئین کے ذریعے ہی دیا جانا چاہیے۔ یہی ایک مہذب، آئینی اور جمہوری معاشرے کا تقاضا ہے۔
#محمدریاض

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں