جمعیت علمائے اسلام کی قربانیوں کی داستان، خون سے لکھی گئی جدوجہد

جمعیت علمائے اسلام کی قربانیوں کی داستان، خون سے لکھی گئی جدوجہد

پاکستان کی سیاسی اور دینی تاریخ میں اگر کسی جماعت نے مسلسل دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، خودکش حملوں اور انتہاپسندی کا سامنا کیا ہے تو اس میں جمعیت علمائے اسلام کا نام نمایاں ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے ایک طرف آئینی، جمہوری اور پارلیمانی سیاست کا راستہ اختیار کیا، تو دوسری جانب اپنے ہزاروں کارکنوں کو امن، اعتدال اور دینی خدمت کی راہ پر گامزن رکھا۔ مگر اس راستے کی قیمت اس جماعت نے اپنے اکابر علما، مرکزی و صوبائی قائدین، اراکین اسمبلی اور کارکنوں کے خون سے ادا کی۔

گزشتہ دو دہائیوں میں جمعیت علمائے اسلام کے 72 سے زائد مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی رہنما اور کارکن دہشت گردی، خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن کر جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ان قربانیوں کی مکمل فہرست شاید ابھی بھی مرتب نہیں ہو سکی، کیونکہ بہت سے دیہی علاقوں کے کارکن بھی اسی جدوجہد میں اپنی جانیں قربان کر گئے۔

ان شہداء میں جنوبی وزیرستان کے مولانا میرزا جان، مولانا مفتی اعجاز، مولانا سلطان محمد، سابق رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین، سابق رکن قومی اسمبلی مولانا حسن جان، سابق رکن قومی اسمبلی مولانا نور محمد، ڈیرہ اسماعیل خان کے حاجی محمد فاروق، خواجہ محمد زاہد، شیخ محمد ایاز، مولانا عطاء اللہ شاہ، مولانا حافظ حماد اللہ فاروق، حافظ عباد اللہ، لکی مروت کے شیخ الحدیث مولانا محسن شاہ، گل زرین ٹھیکیدار، مطیع اللہ، چارسدہ کے مولانا حافظ عبدالسلام عارف، شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس، کراچی کے مولانا حبیب اللہ مختار، مولانا یوسف لدھیانوی، مفتی نظام الدین شامزئی، مفتی عبدالسمیع، مفتی محمد جمیل خان، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، مفتی عبدالمجید دین پوری اور دیگر بے شمار علما و کارکن شامل ہیں۔

باجوڑ، شمالی وزیرستان، اورکزئی، کرم، کرک، سوات، پشاور، صوابی، بلوچستان، سندھ اور ملک کے مختلف علاقوں میں جمعیت کے ذمہ داران کو مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ باجوڑ میں مولانا نور محمد، مفتی بشیر احمد، مولانا شفیع اللہ، قاری الیاس اور دیگر مقامی قائدین کی شہادتیں اس خونچکاں سلسلے کا حصہ ہیں۔

لیکن اگر جمعیت علمائے اسلام کی تاریخ کے سب سے المناک سانحات کا ذکر کیا جائے تو 30 جولائی 2023 کا دن کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ باجوڑ کے خار میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے خودکش دھماکے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا۔ چند لمحوں میں خوشیوں اور ولولے سے بھرا اجتماع قیامت کا منظر پیش کرنے لگا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ساٹھ کے قریب افراد شہید ہوئے، جبکہ تقریباً دو سو زخمی ہوئے۔ مقامی لوگوں کے مطابق مختلف علاقوں میں ایک ہی دن درجنوں جنازے اٹھے اور بعض علاقوں میں تقریباً اسی جنازوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جس نے پورے باجوڑ کو سوگ میں ڈبو دیا۔

اس سانحے نے صرف خاندانوں سے ان کے پیارے نہیں چھینے بلکہ ایک پوری سیاسی و دینی تحریک کو غمزدہ کر دیا۔ باجوڑ کے شہداء میں نوجوان، بزرگ، علما، طلبہ اور عام کارکن شامل تھے، جن کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ایک جمہوری سیاسی اجتماع میں شریک تھے۔

جمعیت علمائے اسلام نے ہمیشہ پارلیمنٹ، آئین، ووٹ اور عوامی رائے پر یقین رکھا، مگر اس کے باوجود اس جماعت کو بارہا دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ مدارس، مساجد، انتخابی جلسے، سیاسی اجتماعات، جنازے اور حتیٰ کہ گھروں تک کو محفوظ نہ رہنے دیا گیا۔

یہ قربانیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ دہشت گردی نے صرف ریاستی اداروں یا عام شہریوں کو ہی نہیں بلکہ دینی و سیاسی قیادت کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ جمعیت علمائے اسلام کے درجنوں علما اور کارکن اس آگ میں جل کر شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوئے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام شہداء کی قربانیوں کو تاریخ کا حصہ بنایا جائے، ان پر تحقیقی کام کیا جائے، ان کے حالاتِ زندگی مرتب کیے جائیں اور نئی نسل کو بتایا جائے کہ پاکستان میں جمہوری جدوجہد کی قیمت صرف ووٹ نہیں بلکہ خون بھی ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ جمعیت علمائے اسلام سمیت پاکستان کے تمام شہداء پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمارے وطن کو دہشت گردی، انتہاپسندی اور ہر قسم کے تشدد سے ہمیشہ کے لیے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

#محمدریاض

#teamJUIswat

0/Post a Comment/Comments