مولانا فضل الرحمن کی للکار: قوم کی آواز اور ذمہ داری کی پکار
بھائی، پورے ملک میں آگ لگی ہوئی ہے۔ معصوم انسان روزانہ شہید ہو رہے ہیں، خون بہہ رہا ہے، مگر کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اگر پنجاب میں نسبتاً امن نظر آتا ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پورا ملک امن و امان میں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات مسلسل جاری ہیں، لوگ غم و افسوس کی زندگی گزار رہے ہیں۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے بیان کو شہدا کی توہین کا رنگ دے کر منظم پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک اور خطرناک حربہ ہے۔ مولانا نے شہدا کی قربانیوں کا ہمیشہ مکمل احترام کیا ہے اور ان کی عظیم خدمات کو قوم کے سامنے بار بار خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ البتہ انہوں نے قومی پالیسیوں، دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی اور امن و امان کی مسلسل ناکامی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
مولانا نے بالکل درست فرمایا کہ قوم کو لشکر کیوں بنانا چاہیے اور دہشت گردوں سے لڑنا کیوں عوام کا کام قرار دیا جا رہا ہے؟ سیکورٹی ادارے کس بات کی تنخواہیں لے رہے ہیں اگر عوام کو میدان میں اتارا جائے؟ یہ عوام کو لڑوا کر نسلوں تک دشمنیاں پیدا کرنے اور علاقائی تنازعات کو مزید گہرا کرنے والی سوچ ہے۔ مولانا کا موقف قومی سطح کا ہے، جو امن کی طویل مدت کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایا گیا ہے۔ جواب دینے کی بجائے الزام تراشی، غلط بیانی اور پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔
فوج کے شہدا ہر پاکستانی کے لیے ناقابلِ فراموش اور قابلِ احترام ہیں۔ ان کی قربانیاں قوم کی بنیاد ہیں۔ ان شہدا کے خون کو سیاسی ہتھیار بنانا، ان کی یاد کو پروپیگنڈے کا ذریعہ بنانا ان کے عظیم ایثار کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہدا کی قربانیوں کا احترام کرنے کا مطلب ان کی روح کو تسلی دینے کے لیے درست پالیسیاں بنانا اور دہشت گردی کے خاتمے کی طرف ٹھوس اقدامات کرنا ہے، نہ کہ سوالات کو دبانا۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجودہ حکومتیں کس نے بنائیں؟ امن و امان کی ذمہ داری قبول کرنے سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے؟ مولانا صاحب نے بالکل درست نشاندہی کی ہے۔ اقتدار سنبھالنے والوں کو ناکامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ داری بھی اٹھانی چاہیے۔
اب بات کرتے ہیں جمعیت علماء اسلام کی طاقت کی۔ ان کے پاس صرف روایتی اسٹریٹ پاور ہی نہیں، بلکہ سوشل میڈیا کی مضبوط اور منظم قوت بھی موجود ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے ٹوئٹر (X) کے محاذ پر حکومتی اتحاد کو واضح برتری سے پیچھے چھوڑ دیا۔
جے یو آئی سوشل میڈیا: 4 ٹرینڈز بمقابلہ مسلم لیگ ن + پیپلز پارٹی + آئی پی پی + حکومت + 23 دیگر: 1 ٹرینڈ
جمعیت علماء اسلام ٹرینڈنگ میں ٹاپ 5 میں چار ٹرینڈز کے ساتھ نمایاں رہی۔ عام لوگ سمجھتے تھے کہ وہ صرف مذہبی حلقوں تک محدود ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جمعیت علماء اسلام جدید تعلیم، میڈیا مینجمنٹ اور عوامی رابطے کی جدید تکنیکوں سے پوری طرح واقف ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کو بھرپور انداز میں سمجھا اور استعمال کیا ہے۔
اسی دوران مولانا صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کو کھل کر آئینہ دکھایا ہے اور ہارڈ سٹیٹ کے سربراہ کو واضح الفاظ میں حقیقت سے روبرو کیا ہے۔ اس بے باک موقف کی وجہ سے پروپیگنڈا میڈیا، لفافہ صحافی اور حامی چینلز میں بے چینی اور شور شرابا نظر آ رہا ہے۔
مولانا پر کرپشن کے الزامات برسوں سے چلے آ رہے ہیں، مگر آج تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ اگر واقعی کوئی قابلِ عمل ثبوت موجود ہوتا تو وہ ادارے جو دیگر سیاسی رہنماؤں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہیں، مولانا کے خلاف بھی ضرور ایکشن لے چکے ہوتے۔ یہ الزامات دراصل سیاسی دباؤ اور پرانی فائل کھولنے کا حربہ لگتے ہیں۔
حکومتی اتحاد کی یادداشت بہت کمزور ہے۔ جو لوگ کل تک مختلف بیانیوں کے حامی تھے، آج اقتدار میں بیٹھ کر دوسروں کو سبق دے رہے ہیں۔ مولانا کی یہ للکار ان سب کو یاد دلا رہی ہے کہ عوام بھولتے نہیں۔
قوم مولانا کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ الزامات کی بجائے ذمہ داری قبول کی جائے، سوالات کے جواب دیے جائیں اور ملک میں حقیقی امن قائم کیا جائے۔
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
#مولانا_قدم_بڑھاؤ
#مولانا_کی_للکار
#NationStandsWith_Maulana
#محمدریاض

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں