قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا قصور میں تحفظ مدارس دینیہ و عوامی حقوق کانفرنس سے خطاب
11 جولائی 2026
الحمدللہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی لاسیما علی سید الرسل و خاتم الانبیاء وعلی آلہ وصحبہ ومن بھیدھم اھتدی، اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِينَ۔ بَلِ اللَّهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ۔ صدق اللہ العظیم
جناب صدر محترم، حضرات علماء کرام، مشائخ عظام، بزرگان ملت، میرے جوانو، میرے بھائیو اور بہنو!
قصور کی سرزمین پر اور پھول نگر کی اس نگری میں اہل پنجاب کا یہ فقید المثال اجتماع، یہ تاریخی اجتماع، پنجاب کے عوام کی سوچ میں تبدیلی کی نوید لا رہا ہے۔ لگتا ہے اب آپ کے تیور بدل چکے ہیں۔
میرے محترم دوستو! آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس وطن عزیز کی آزادی کے لیے آپ کی پشت پر دو سو سالہ تاریخ ہے۔ جب ہندوستان کو انگریزی حکومت سے آزادی دلانے کے لیے ہمارے اکابر نے اسے دارالحرب قرار دیا تھا، جہاد کا آغاز کیا تھا۔ ایک صدی تک برصغیر میں علماء لڑتے رہے، بے سرو سامانی کے عالم میں لڑتے رہے، عالمی قوت کے خلاف لڑتے رہے، اپنی جدوجہد میں انہوں نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آنے والی نسلوں کو ایک پیغام دیا کہ آزادی کے لیے اپنے سر کٹوائے جا سکتے ہیں، آزادی کے لیے سولی قبول ہو سکتی ہے، آزادی کے لیے توپوں کے آگے کھڑا ہونا قبول ہو سکتا ہے، لیکن فرنگی کی غلامی کسی قیمت پر ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے۔
سنو! آپ ان اکابر کی اولاد ہیں، آپ کی یہ تاریخ ہے، غیرت و حمیت سے بھرپور آپ کا یہ نسب نامہ ہے، اور آج اپنے اکابر کا آپ کے اوپر قرض ہے کہ اپنی آزادی و حریت کے لیے میدان عمل میں ان کی آرزوؤں کو پورا کریں، ان کی روحوں کو تسلی اور سکون عطا کریں۔
جب تک برصغیر کی سیاسی قیادت علماء کے ہاتھ میں تھی، برصغیر میں کوئی فساد نہیں تھا۔ نہ ہندو، مسلمان کا فساد ہوا، نہ شیعہ، سنی کا فساد ہوا، نہ دیوبندی، بریلوی کا فساد ہوا۔ لیکن جب انگریز کی گرفت مضبوط ہو گئی اور مسلمانوں کی قیادت انگریز کے وفاداروں کو منتقل ہوئی، ان کی نااہلی دیکھیے یا ان کی بدنیتی دیکھیے کہ تب سے یہاں پر فرقہ وارانہ لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ ہندو، مسلمان فساد ہوتے رہے، شیعہ، سنی فساد ہوتے رہے، یہاں پر پشتون، بلوچ کے فساد ہوتے رہے، پشتون، پنجابی کے فساد ہوتے رہے، سندھی، مہاجر کے فساد ہوتے رہے، اور وہ خون جو ہم ایک دوسرے کا بہاتے رہے، آج بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ آج بھی ہر طرف خون بہہ رہا ہے۔ لیکن آپ کو تسلی دینا چاہتا ہوں، دنیا پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ تم لاکھ انسانی حقوق کے علمبردار ہونے کا دعویٰ کرو، تم لاکھ کہو کہ ہم تو انسانیت کے حقوق کی بات کرتے ہیں، لیکن پاکستان کی اٹھہتر سالہ زندگی میں اگر فرقہ واریت کے فتنے کو شکست دی ہے تو جمعیۃ علماء نے دی ہے۔ اگر لسانیت کے فتنے کو شکست دی ہے تو جمعیۃ علماء نے دی ہے۔ اگر قومیتوں کو لڑانے اور ان کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی سیاست کو شکست دی ہے تو جمعیۃ علماء نے دی ہے، اور اگر کسی نے خون بہا کر مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی، خون ریزی کی سیاست کو اگر شکست دی ہے تو جمعیۃ علماء نے دی ہے۔ اور ان شاء اللہ! یہ پاکستان ہم امریکہ کے قبضے میں نہیں جانے دیں گے، ہم دوبارہ انگریز کے قبضے میں نہیں جانے دیں گے، ہم یورپ کے قبضے میں نہیں جانے دیں گے۔ ہم اسے آزاد ریاست دیکھنا چاہتے ہیں، ہم اسے خوش حال ریاست دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہاں اسٹیج پر باتیں ہوئیں، پنجاب کے زمیندار کی، پنجاب کے کسان کی، پنجاب کے مزدور کی۔ میں پاکستان کے پنجاب کے کسان کو پیغام دینا چاہتا ہوں، میں پنجاب کے مزدور کو پیغام دینا چاہتا ہوں، آپ بے فکر ہو جائیے، وڈیروں کا، چودھریوں کا، سرداروں کا بھوت اپنے سروں سے اتار لیجیے۔ یہ جنگ جمعیۃ علماء اسلام لڑے گی۔ اگر تیرے گریبان میں کسی طاقتور کا ہاتھ پڑا، جمعیۃ علماء اس ہاتھ کو توڑ کر رکھ دے گی۔ اگر کسی جابر نے آپ کے گلے میں ہاتھ ڈالا، اس جابر کا ہاتھ توڑ دیا جائے گا۔ اور ہم نے پاکستان میں، ہم نے خیبر پختونخوا میں، ہم نے بلوچستان میں بڑے بڑے خوانین، بڑے بڑے نواب، جو اپنے آپ کو خدا کہا کرتے تھے، ان کی خدائی کو اگر زمین بوس کیا ہے تو پنجاب کے چودھری اور نواب کی خدائی کو بھی ہم ہی زمین بوس کر سکتے ہیں۔
آپ ذرا ارادہ تو بدلیں، پاکستان کا اور پنجاب کا کسان ذرا اپنی رائے تو بدلے، اپنے اندر خودداری تو پیدا کرے۔ یہ لوگ تھانے کی سیاست کرتے ہیں، یہ لوگ پولیس سے مل کر تمہیں گرفتار کراتے ہیں، تھانوں میں پولیس کے ہاتھوں تمہاری تذلیل کراتے ہیں، اور پھر تذلیل کرانے کے بعد تھانے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: سائیں یہ تو ہمارا بندہ ہے، اس کو رہا کرو۔" بظاہر وہ آپ کا خیر خواہ بنتا ہے، لیکن آپ کی تذلیل کے پیچھے بھی اسی کی سازش اور اسی کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔
تو میرے محترم دوستو! ہمارے ملک میں ایک آئین ہے، اور اس آئین کی روح سے ایک پارلیمنٹ ہے۔ یہ عوام کی نمائندہ ہے، اور اس پارلیمنٹ کا فرض منصبی ہے کہ وہ عوام کی قوت کو مضبوط کرے، عوام کے حقوق کی جنگ لڑے، عوام کو طاقتور بنائے۔ لیکن آج ہماری پارلیمنٹیں وہ مقتدرہ کی قوت میں اضافہ کر رہی ہیں اور عوام کو کمزور بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے عوام آج کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عوام ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن عوام کا ووٹ منظر عام پر نہیں آتا، پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتا ہے۔
گلگت میں الیکشن ہوا، اور ایک پولنگ اسٹیشن پر، جہاں جمعیۃ علماء کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جیت رہی تھی، اس کے بکسے دریا میں ڈال دیے گئے۔ اب بتاؤ، دریا میں بکسے کہاں ڈھونڈو گے؟ ووٹ کہاں سے گنو گے؟
اب اس قسم کے عوام کے حق رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اس کے حق بیعت پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اور پارلیمنٹ عوام کے حق کی جنگ نہیں لڑے گی، بلکہ مقتدرہ کو طاقتور بنانے کی جنگ لڑے گی، جو دھاندلی کراتی ہے، جو نتائج تبدیل کراتی ہے، جو عوام کے ووٹ کو اپنے قبضے میں لے کر اپنی مرضی کے نتائج سامنے لاتی ہے، ان کو طاقتور بنائے گی، تو پھر یہی انداز ہوگا کہ نہ آپ کو گندم ملے گی اور نہ آپ کو چاول ملے گا۔ پھر بھوک اور افلاس کے علاوہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا، پھر فساد کے علاوہ آپ کے حصے میں کچھ نہیں ہوگا۔
میرے محترم دوستو! یہ بڑے اہل لوگ ہیں، حکومتیں کر رہے ہیں۔ ان کا بھی اندر کہتا ہے کہ ہم واقعی جیتے ہوئے ہیں، اس لیے یہ حکومت کر رہے ہیں۔ تب ہی تو عوام کا اعتماد نہیں ہے، عوام ٹیکس نہیں دے رہے۔ اور یہ آج کی بات نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام اس وقت سے ٹیکس نہیں دے رہے جب اس زمین پر انگریز کی حکومت تھی۔ برصغیر کا باشندہ یہ سمجھ رہا تھا کہ میں جو بھی ٹیکس ادا کروں گا، وہ انگریز کی گرفت کو مضبوط کرے گا، غلامی کی رسیاں اور کس جائیں گی، یہ انگریز کے مفاد میں جائے گا، انگریز اپنی طاقت کے لیے میرے ٹیکس کو استعمال کرے گا۔
پاکستان بن گیا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکمرانوں پر اعتماد ہوتا، لوگ ان کو ٹیکس ادا کرتے، لوگ ٹیکس چوری نہ کرتے۔ اٹھہتر سال ہو گئے، ہمارے ملک کے حکمران عوام کے اندر اعتماد بحال نہیں کر سکے، اور آج بھی پاکستان کا شہری ان حکمرانوں کو ٹیکس دینے کے لیے اس لیے تیار نہیں کہ ان کو پتہ ہے کہ میرا ٹیکس میری فلاح و بہبود پر خرچ نہیں ہوگا، بلکہ میرا ٹیکس آئی ایم ایف کے پاس جائے گا، ایف اے ٹی ایف کے پاس جائے گا، ورلڈ بینک پر جائے گا، بیرونی قرضوں کے لیے استعمال ہوگا، امریکی مفادات کے لیے استعمال ہوگا، یورپ کے مفادات کے لیے استعمال ہوگا، عالمی مالیاتی اداروں کے مفاد کے لیے استعمال ہوگا۔ جب پاکستان کا شہری یہ سمجھے گا کہ میرا پیسہ، میرا ٹیکس، میرے مفاد کے لیے استعمال نہیں ہوگا، وہ کیوں کر آپ کو
ٹیکس ادا کرے گا؟ پھر گلہ کرتے ہو کہ لوگ ٹیکس نہیں دے رہے۔
ہمارے ملک کی آبادی بڑھ گئی ہے، لیکن آج مہنگائی کی کیا صورت حال ہے؟ پیٹرول کہاں پہنچ گیا ہے؟ بجلی کی قیمت کیا ہے؟ ہندوستان میں بھی لوگ بجلی لیتے ہیں، بنگلہ دیش میں بھی، چین میں بھی، افغانستان میں بھی، ایران میں بھی، انڈونیشیا میں بھی، ملائشیا میں بھی۔ پورے خطے میں بجلی کی قیمت نہیں بڑھ رہی، تو پاکستان کی سرزمین پر بجلی عوام کو مہنگی کیوں دی جا رہی ہے؟
تم سے پاکستان کا نہ امن سنبھالا جا رہا ہے، نہ تم سے پاکستانی معیشت ٹھیک ہو رہی ہے، پھر صرف دھاندلی کی بنیاد پر حکومت کرو گے نا۔ ویسے تو آپ عوام میں نہیں ہیں، پھر تو دھاندلی کی حکومت کو، اگر ہم نے دو ہزار اٹھارہ میں تسلیم نہیں کیا تھا، تو ہم نے دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں بھی دھاندلی کے الیکشن کو تسلیم نہیں کیا، اور ہم اپوزیشن میں بیٹھے ہیں۔ بظاہر پارلیمنٹ میں ہماری تھوڑی تعداد ہے، لیکن پورے ملک کے میدانوں میں اپوزیشن جمعیۃ علماء کر رہی ہے، اور پاکستان کے میدانوں کی سیاست پر جمعیۃ علماء چھائی ہوئی ہے۔
میرے محترم دوستو! اب یہ سفر چل پڑا ہے۔ ناجائز حکومت قبول نہیں ہے۔ اور مقتدرہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں، آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں، آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں، لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرہ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرہ اختیار ہے، فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔
ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے، اور میں وہاں سے آیا ہوں۔ میں پنجاب کے لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ غروب آفتاب کے بعد صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی، اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔
اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں، میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔ آج بھی وہاں پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔ لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے، اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔ پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں، ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔
یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے، نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔
پھر کہتے ہیں: ہمارے جوان بھی تو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پیٹھی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی لیے لے رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو۔
لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں گے حکومت دیں گے اور جس سے چاہیں گے حکومتیں چھین لیں گے، اور پھر قانون سازیاں ہو رہی ہیں، پارلیمنٹ کے ذریعے مقتدرہ کو طاقتور بنایا جا رہا ہے۔
اور پنجاب میں ایک نیا قانون آ رہا ہے، یا آ چکا ہے، عادی مجرم کا نیا قانون آ رہا ہے، جس میں ڈپٹی کمشنر کے اختیارات میں اضافہ کیا جا رہا ہے، انتظامیہ کے اختیارات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ ایک، دو یا تین ایف آئی آر ہوئے، اس کے بعد انتظامیہ آپ کو جب چاہے گرفتار کرے، جب چاہے آپ کو جیل میں ڈال دے، جب چاہے آپ کی زندگی کو محدود کر دے، جب چاہے آپ کو فورتھ شیڈول میں ڈال دے۔
آپ بتائیں کہ کیا انتظامیہ کو سزا دینے کا اختیار ہے؟ سزا دینے کا اختیار عدلیہ کو ہوا کرتا ہے، لیکن یہاں سزا کا اختیار انتظامیہ کو دیا جا رہا ہے۔ اور میں پنجاب حکومت سے بڑے احترام کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر دو چار ایف آئی آر کٹنے کی وجہ سے وہ عادی مجرم ٹھہرتا ہے، اور اس کو انتظامیہ جب چاہے گرفتار کر سکتی ہے، تو آنے والا مستقبل ایسے مقدمات کے لیے نواز شریف، شہباز شریف اور زرداری کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ قانون آپ کے گلے پڑے گا۔ آج تم ہمارے خلاف یہ قانون بنا رہے ہو، آج تم مدارس کے خلاف قانون بنا رہے ہو۔ تم نے نیشنل ایکشن پلان کے نام سے ایک پالیسی بنائی، اور اس پالیسی میں آپ نے دینی مدارس، مساجد اور مذہبی طبقے کو نشانہ بنایا کہ ان کی نگرانی کی جائے، تشدد کے راستے سے ان کو روکا جائے۔
میں نے اس میٹنگ میں احتجاج کیا، میں نے کہا: اس کو ہم قبول نہیں کر سکتے، یہ ایک امتیازی قانون ہے جو مذہبی لوگوں کے خلاف ہے۔ لیکن ہمارے جن سیاسی پارٹیوں نے اس نیشنل ایکشن پلان کا ڈرافٹ بنایا، اس کا مسودہ تیار کیا، اور اس اجلاس سے منظور کیا، آپ کو شاید اطلاع نہیں، آپ بھول بھی نہیں سکتے، اسی نیشنل ایکشن پلان کی زد میں وہی پارٹیاں آئیں، وہی پارٹی جیلوں میں گئی، انہی پارٹیوں کی حکومتیں ختم ہوئیں۔ میں نے کہا: اللہ کے فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں۔
تم نے نیشنل ایکشن پلان میں لکھا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کیا جائے، طاقت کا استعمال کیا جائے، دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے، لیکن تم نے بلوچستان کے بارے میں کہا کہ وہاں پر پُرتشدد واقعات کو روکنے اور ایسی تنظیموں کا راستہ روکنے کے لیے بلوچستان کو حقوق دے دو، بلوچستان میں ترقیاتی کام شروع کر دو، وہاں پر جب آپ خوش حالی لائیں گے تو یہ لوگ خود بخود اپنی تحریک چھوڑ جائیں گے۔ ہم نے اس کی مخالفت نہیں کی، ہم نے بلوچستان کے حقوق کی تائید کی۔
لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ تم نے تو نیشنل ایکشن پلان پاس کر لیا، اب بتاؤ، تم نے بلوچستان میں کوئی ترقی کی؟ اگر ترقی کی تو وہاں کوئی اثر ہوا؟ وہاں پر جتھے بنے، مسلح جتھے بنے، تمہارا مغرب بھی روکا ہوا ہے، تمہارا مشرق بھی روکا ہوا ہے، ہر طرف سے تم محصور ہو۔ پشتون علاقے کے پہاڑوں پر وہ چھا گئے ہیں، خیبر پختونخوا کے پہاڑوں پر اور اس کے صحراؤں پر یہی لوگ چھائے ہوئے ہیں۔
آپ کدھر ہیں؟ سوائے اس کے کہ ایک ایوان صدر میں بیٹھا ہوا عیاشی کر رہا ہے، اور دوسرا وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھا ہوا عیاشی کر رہا ہے۔
میرے محترم دوستو! یہ جانب داریاں، بدنیتیاں ہیں، مت کرو ہمارے ساتھ۔ تم ہمیں گھیرنے کی کوشش کرتے ہو، خود گر جاتے ہو۔ تم ہمیں پھنساتے ہو، پھر خود پھنس جاتے ہو۔ جس کا کوئی نہیں، اللہ تو ہے۔ ہمیں اپنے رب پر بھروسا ہے۔
چھبیسویں آئینی ترمیم ہوئی، صرف جمعیۃ علماء اسلام نے تنہا مذاکرات کیے۔ پاکستان تحریک انصاف کو ہم نے مسلسل رابطے میں رکھا، لمحہ بہ لمحہ کی پیش رفت سے ان کو آگاہ کرتے رہے۔ اپوزیشن اور حکومت، دونوں جمعیۃ علماء کے رابطے میں رہے۔ایک مہینہ ایک ہفتے تک مذاکرات چلتے رہے۔ ہم نے اپنے دس، گیارہ لوگوں کی طاقت سے اس حکومت کو اس قانون کی چونتیس شقوں سے دستبردار کرایا تھا۔ چونتیس شقوں سے ہم نے ان کو دستبردار کرایا، اور صرف بائیس شقوں پر ان کو آنا پڑا کہ بس اسی کو منظور کرتے ہیں۔
ہم نے کہا: نہیں، اب ہماری چلے گی، اب ہماری چلے گی۔ آپ کو آنا ہوگا اس بات پر کہ پاکستان میں یکم جنوری دو ہزار اٹھائیس سے ملک کے اندر سود ختم تسلیم کرنا ہوگا۔ اور الحمدللہ ہم نے منوایا۔ اسی چھبیسویں آئینی ترمیم میں ہم نے منوایا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اسمبلی میں آتی تھیں، سفارش پیش ہو جاتی تھی، پتہ نہیں کس کمرے میں جا کر اس کے بل میں پڑے ہوتے تھے۔ ہم نے آئینی ترمیم کرائی کہ نہیں، صرف پیش ہونا کافی نہیں ہے، ان سفارشات کو بحث کے لیے ایوان میں پیش کرو۔ اور ہم نے ان سے منوا لیا۔ اس وقت آئینی طور پر حکومت پابند ہے کہ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو صرف پیش نہیں کرے گی، بلکہ بحث کے لیے ایوان میں پیش کرے گی۔ ڈیڑھ سال ہو گیا ہے، اس وقت تک انہوں نے ایک سفارش بھی مباحثے کے لیے ایوان میں پیش نہیں کی۔
یہ ہے ان کی بدنیتی، اور اسی بدنیتی سے وہ مار کھا رہے ہیں۔ تو جب اللہ تمہیں مار رہا ہے، اور تم اپنے جال میں خود پھنستے جا رہے ہو، تو پھر مجھے تمہاری کیا فکر؟ مجھے تو صرف اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے، اور اس نے ہمیں سرخرو کیا۔ جس محاذ پر ہم گئے ہیں، اللہ نے ہمیں سرخرو کیا۔
وفاقی شرعی عدالت کا بینچ، اور وفاقی شرعی عدالت کے بینچ کا جج اپنے بینچ کا چیف جسٹس نہیں بن سکتا تھا۔ ہم نے ترمیم کرائی کہ شرعی بینچ کا اپنا جج اس کا چیف جسٹس بنے گا۔
اور پہلے قانون یہ تھا کہ اگر وفاقی شرعی عدالت ایک فیصلہ کرتی ہے، اور اس کے خلاف سپریم کورٹ میں یا سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ میں اپیل ہو جاتی ہے، تو شرعی عدالت کا فیصلہ معطل ہو جاتا ہے، اور پھر کوئی حد نہیں ہوتی تھی کہ اس اپیل کو کب سنا جائے گا۔
ہم نے آئینی ترمیم کرائی، اور اس میں آئین میں لکھ دیا کہ سپریم کورٹ یا شریعت اپیلیٹ بینچ اس اپیل کا، جو شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر ہوئی ہے، ایک سال کے اندر اندر فیصلہ دے گا، اور اگر نہ دے سکا تو شرعی عدالت کا فیصلہ خود بخود مؤثر ہو جائے گا۔
چھوٹی سی تعداد کے ساتھ حالات آتے ہیں، اللہ حالات بناتا ہے، اور ہم نے یہ کامیابیاں حاصل کیں۔ اور اس حوالے سے دینی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ آیا، تو دینی مدارس کی رجسٹریشن کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ اٹھارہ سو ساٹھ کے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت اس کی رجسٹریشن کا قانون پاس ہو گیا۔ آج بھی اٹھارہ سو ساٹھ کے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت ہمارے مدارس کی رجسٹریشن میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، اور انتظامیہ رکاوٹ ڈالتی ہے، ڈپٹی کمشنر رکاوٹ ڈالتا ہے، مقامی انتظامیہ رکاوٹ ڈالتی ہے۔ کیا حق پہنچتا ہے کہ جو رجسٹریشن کا حق مجھے میرے آئین نے عطا کر دیا ہے، میرے قانون نے عطا کر دیا ہے، پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر پاس کر لیا ہے، اس کے بعد آپ کون ہوتے ہیں کہ میرے مدارس کی رجسٹریشن کو روک رہے ہیں؟ سو مدارس بھی احتجاج کریں گے۔ یہ تو دہشت گردی پیدا کرنے والا ادارہ ہے؟ وہ بھی تو دینی مدرسے ہیں جو آپ کے ہیں، وہ بھی تو دینی مدرسے ہیں جو آپ کے ہیں، ان کے لیے تحفظات کیوں نہیں؟
اور اگر تمام مکاتب فکر کے مدارس کا دینی اتحاد ایک قانون پر متفق ہے، قانون پاس ہو چکا ہے، مدرسہ اپنے کاغذات اس قانون کے تحت لے جاتا ہے ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں، آپ کون ہوتے ہیں کہ آپ میرے مدرسے کے مہتمم کو واپس کرتے ہیں؟ آپ ان کو کہتے ہیں کہ نہیں، فلاں جگہ پر جا کر رجسٹریشن کراؤ۔ ہم جہاں بھی رجسٹریشن کرائیں گے، ہوں گے تو ہم دینی مدرسہ لیکن ایک طرف آپ کہتے ہیں رجسٹریشن کراؤ، اور ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ہم یہاں سے رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں، یہ اختیار ہمیں قانون نے دیا ہے، تم میرے اس اختیار کو مجھ سے کیسے چھین سکتے ہو؟
تو بدنیتی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ اور بدنیتی کی مار کھاؤ گے، ان شاء اللہ! ہم لڑیں گے آپ کے ساتھ، ہم رکیں گے نہیں، ہماری تحریک چل رہی ہے۔ ہم زندہ رہے، مردہ رہے، اگلی نسلیں ان شاء اللہ لڑیں گی، اس دین کے علم کی حفاظت کریں گی، قرآن کے علوم کی حفاظت کریں گی، حدیث کے علوم کی حفاظت کریں گی، فقہ کے علوم کی حفاظت کریں گی، دینی علوم کی حفاظت کریں گی۔ یہ راستہ میرے عظیم اکابر نے کھولا ہے، تمہارا باپ بھی اس راستے کو بند نہیں کر سکتا، ان شاء اللہ۔
یہ عجیب پاکستان ہے۔ یہاں پر ایک قانون پاس ہوا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کا کوئی نوجوان نکاح نہیں کر سکتا۔ اب آپ علماءِ کرام ہیں، آپ جانتے ہیں کہ شرعاً کس عمر میں لڑکا یا لڑکی بالغ ہوتے ہیں، اور جب بالغ ہو جاتے ہیں تو ان کو باہمی طور پر نکاح کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں قانون بنایا گیا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کا نکاح نہیں ہوگا۔ بھئی، نہ کرو۔ ہر گھر کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔ میں بھی بچوں کا باپ ہوں، بیٹیوں کا بھی باپ ہوں، بیٹوں کا بھی باپ ہوں۔ میرے بیٹے اور میری بیٹی کی فکر تمہیں زیادہ ہے یا مجھے زیادہ ہوگی؟کس عمر میں رشتہ ملتا ہے، کس عمر میں ازدواجی تعلق بنتا ہے، یہ تو ہر گھر کے اپنے حالات ہوتے ہیں۔
آپ مجھ پر جبر کر رہے ہیں کہ آپ نے اگر اٹھارہ سال سے کم عمر میں نکاح کیا، اور یہ نوجوان لڑکا اور لڑکی اکٹھے ہوئے، تو اس کو زنا بالجبر تصور کیا جائے گا۔ لعنت ہو تمہارے اس تصور پر! لعنت ہو تمہارے اس انسانی حقوق کے تصور پر! یہ سوچ ہے تمہاری؟ مسلمان، کلمہ گو ہو کر تمہیں شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے؟ اور مشرف کے زمانے میں حقوقِ نسواں کے نام سے ایک آئینی ترمیم ہوئی تھی، اس میں زنا بالرضا کے لیے سہولت مہیا کی گئی۔ میں نے کہا: یہ عجیب پاکستان ہے، یہ عجیب اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کہ جس میں زنا کے لیے سہولت مہیا کی جا رہی ہے اور جائز نکاح کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔
میری بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں؟
یہ وہ جنگ ہے جو ہم پاکستان میں لڑ رہے ہیں۔ کیا اس لیے پاکستان بنا تھا؟ کیا اس لیے اسلام کا نعرہ لگایا گیا تھا؟ کیا اس لیے برصغیر کے دس کروڑ مسلمانوں نے قربانیاں دی تھیں؟ کیا اس دن کے لیے میری بہنوں نے اور میری بیٹیوں نے اپنی عزتیں قربان کر کے یہ وطن حاصل کیا تھا؟
تمہیں ان کی عزتوں سے حیا نہیں آئی؟ تمہیں ان جوانوں کے خون سے حیا نہیں آئی، جنہوں نے اس ملک کے لیے قربانیاں دیں، آزادی کے لیے سولی کے پھندے چومے؟ اور ایک انگریز لکھتا ہے کہ ہم نے ایک ایک عالم دین سے تنہا پوچھا کہ تم صرف زبانی کہہ دو کہ تحریک آزادی سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا، ہم آپ کی سزا ابھی معاف کرتے ہیں۔
کہتا ہے: پچاس ہزار علماء کو ہم نے توپ سے اڑا دیا، ایک بھی اس بات کے لیے تیار نہیں ہوا کہ وہ یہ کہہ دے کہ میرا تحریکِ آزادی سے تعلق نہیں تھا۔ ہم ان قربانیوں کی تاریخ کے امین ہیں۔جاگیردار طبقہ انگریز نے پیدا کیا، مفاد پرست طبقہ اس نے پیدا کیا، اور آج کون ہے جو اس کو تحفظ دے رہا ہے؟ میں نہیں بتاؤں گا۔ جو طاقت اسی جاگیردار اور اسی سرمایہ دار طبقے کے جبر کو تحفظ دے رہی ہے، اس کے اقتدار کو تحفظ دے رہی ہے، میں نہیں کہوں گا، خود سمجھ لو کہ انگریز کا یہاں پر نائب کون ہے اور اس کا جانشین کون ہے۔
میرے محترم دوستو! اپنے ملک کا تو یہ حال ہے، ہندوستان کے ساتھ پوری سرحد بند، افغانستان کے ساتھ پوری سرحد بند، مغربی سرحدیں بھی بند، مشرقی سرحدیں بھی بند۔ ایران ایسے حالات میں ہے کہ وہ نہ اچھے کا ہے نہ برے کا۔ چین اپنا اعتماد اٹھا چکا ہے تم لوگوں سے۔ وہ ایک چھوٹا سا کوریڈور ہے جو اگر تجارت کے لیے کھلتا ہے تو آپ نے ان کو دھوکے دیے ہیں، ہم نے ان کو دھوکے دیے، ہم نے ان کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا۔ اس وقت پاکستان محصور ہے، حکمرانوں کی پالیسیوں کے ہاتھوں محصور ہے۔ اور حکمران اس لیے مجبور ہیں کہ وہ بھی تو محصور ہیں۔
ہم حکمرانوں کی مجبوری کو جانتے ہیں، لیکن یہ کوئی بھی نوزائیدہ نہیں ہیں، یہ جتنے اس وقت فیصلہ کن لوگ ہیں، فیصلہ کن قوتیں ہیں، وہ عاقل و بالغ ہیں، سمجھدار ہیں، لیکن ان کے اندر آزادی و حریت کی رمق نہیں ہے۔ وہ غلامانہ ذہنیت کے حامل ہیں، اور وہ کسی طاقتور ملک کے لیے پراکسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنی جنگ نہیں لڑ رہے۔
اگر تم افغانستان پر اعتراضات کرتے ہو، افغانستان سے مجھے بھی شکایت ہے، لیکن کچھ معاملات ہوتے ہیں جو طاقت سے حل نہیں ہوا کرتے، وہ سفارتی عمل سے حل ہوا کرتے ہیں، ڈپلومیسی سے حل ہوا کرتے ہیں۔ میں الیکشن سے پہلے گیا، جمعیۃ علماء کا ایک مؤقر وفد لے کر، ایک ہفتے میں تمام معاملات حل کر کے آ گیا۔ یہاں میں نے رپورٹ کی، میری دادِ تحسین کی گئی کہ آپ نے زبردست کامیابی حاصل کی، لیکن پھر الیکشن میں اسی جماعت کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہے ان کی رواداریوں کا صلہ۔ ہم ملک کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں، ہم ملک کو کس طرح مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں؟
شاید آپ نوجوانوں کو یاد نہ ہو، دو ہزار تین میں، جب مشرف کی حکومت میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اس حد تک کشیدہ ہو گئے کہ ہمارے زمینی رابطے ختم، فضائی رابطے ختم، ہماری فضاء ان کی پروازوں کے لیے اور ان کی فضاء ہماری پروازوں کے لیے بند ہو گئی، وہاں کا ہمارا ہائی کمیشن، یہاں ان کا ہائی کمیشن، ایک اسٹینوگرافر چلا رہا تھا، مکمل خالی ہو گئے تھے۔
اس وقت جمعیۃ علماء کا چار ارکان پر مشتمل وفد گیا، میں ساتھ تھا۔ ہم نے وہاں دس دن گزارے، تمام پارٹیوں سے ہم نے بات کی، اور دس دن کے بعد واپس ہوئے۔ چار پانچ مہینوں کے بعد تعلقات بحال ہو گئے۔ یہ جمعیۃ علماء کی کارکردگی تھی۔
جب امریکہ نے تمہارے اوپر پابندی لگائی کہ ہم فوجی امداد پاکستان کو نہیں دیں گے، تو میں خارجہ امور کا چیئرمین تھا۔
میں نے نیویارک میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کے ساتھ بات کی۔ پاکستان کی خاتون سفیر اس وقت موجود تھیں، ہماری میٹنگ میں میرا ترجمہ وہی کیا کرتی تھیں۔
ایک میٹنگ کے اندر اندر ہم نے ان کو وہ قانون واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔
امریکی میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، معدنی ذخائر میں۔ ہم نے کہا: سرمایہ کاری سے بے نیاز تو خود امریکہ بھی نہیں ہے، سرمایہ کاری سے بے نیاز تو روس بھی نہیں ہے، چین بھی نہیں ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا میں کام کرتی ہیں، پیسہ لگاتی ہیں، اگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرے گا تو ہم کیوں روکیں گے؟ لیکن سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق پاکستان اور آپ کے درمیان کھلا معاہدہ ہونا چاہیے، عوام سے خفیہ مت رکھو۔ پھر جس علاقے میں معدنی ذخائر پیدا ہوتے ہیں، وہاں کی مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ کرنا آپ کی بھی ذمہ داری ہوگی، پاکستان کی بھی ذمہ داری ہوگی۔ اور یہ اصول ہے۔
بظاہر تو وہ مان گئے، لیکن آج قبائلی پہاڑوں میں اگر کوئی جنگ ہے تو وہ اسی بنیاد پر ہو رہی ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کو بیچا جا رہا ہے، اور مقامی آبادی کو بے اختیار کر کے اس سے اس کا اختیار چھینا جا رہا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خود ہی یہ کاروبار کر سکتے ہیں۔ نہیں، یہ پاکستان کے بچوں کی ملکیت ہے۔
یہ ان علاقوں کے بچوں کی ملکیت ہے۔ بلوچستان کے عوام اور ان کے بچے وہاں کے وسائل کے مالک ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے بچے وہاں کے وسائل کے مالک ہیں۔ پنجاب کے عوام اور ان کے بچے پنجاب کے وسائل کے مالک ہیں۔ سندھ کے عوام اور ان کے بچے سندھ کے وسائل کے مالک ہیں۔
کسی کا کوئی مائی کا لال ان کے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا، اور اگر ڈالا جائے گا تو پھر یہی بے چینیاں آئیں گی جو آج سندھ میں ہیں، وہی بے چینیاں جو آج بلوچستان میں ہیں، وہی بے چینیاں جو خیبر پختونخوا میں ہیں، اور یہی بے چینیاں کل پنجاب میں اتر سکتی ہیں۔
ہم پاکستان کو ایک پُرامن ملک دیکھنا چاہتے ہیں، ہم پاکستان کو محبت اور اخوت دینا چاہتے ہیں۔ جمعیۃ علماء نے نفرتوں کی سیاست کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، فرقہ وارانہ نفرتوں کے ساتھ، لسانی نفرتوں کے ساتھ، علاقائی نفرتوں کے ساتھ، قومی نفرتوں کے ساتھ ہم نے لڑائی لڑی ہے، اور الحمدللہ ہم کامیاب ہوئے ہیں۔
آج بھی یہ جنگ جمعیۃ لڑ رہی ہے میدان میں، اگر ہماری فوج سمجھتی ہے کہ ہم جنگ لڑ رہے ہیں، ہاں، آپ لڑ رہے ہوں گے پہاڑوں میں، لیکن میدانوں میں اگر نظر آ رہی ہے تو جمعیۃ علماء نظر آ رہی ہے، جو عوام کے اندر خود اعتمادی پیدا کر رہی ہے۔
اس ملک کو بچانے کے لیے ایک کشمیر رہ گیا تھا جو پُرامن تھا، آج وہ کشمیر اُبل رہا ہے۔ انڈین کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل چکا تھا، اب ہمارے ہاتھ سے اپنا کشمیر نکل رہا ہے۔
اور جب فاٹا کو صوبے میں ضم کیا جا رہا تھا تو ہم چیخ رہے تھے کہ بھائی! یہ غلطی مت کرو، ابھی اس طرح کے حالات نہیں ہیں، ابھی انضمام نہ کرو۔ اگر تم نے انضمام کیا اور فاٹا کے عوام سے پوچھا نہیں، تو یاد رکھو، ہندوستان کشمیر کو ہڑپ کر لے گا۔
فاٹا کی خصوصی حیثیت، اس کی آئینی خصوصیت، اس کی قانونی خصوصیت اگر آپ وہاں کے عوام سے پوچھے بغیر ختم کریں گے تو کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی عوام سے پوچھے بغیر انڈیا ہڑپ کر لے گا۔ وہی ہوا۔ آج فاٹا نہ فاٹا ہے، نہ سیٹلڈ ایریا۔
آج وہی لوگ، جو کل فاٹا کے انضمام کی تحریک چلا رہے تھے، اور آگے بڑھ کر کہتے تھے کہ فاٹا کے عوام کا مفاد صوبے کے ساتھ انضمام میں ہے، آج وہی آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں کہ آئیں سوچیں، ہم سے تو ٹیکس لیے جا رہے ہیں، ہم سے تو وعدے کچھ اور ہوئے تھے، اور ہوا کچھ اور ہمارے ساتھ۔ ہم نے کہا جمعیۃ تو اس وقت بھی کہہ رہی تھی کہ ایسا مت کرو
سو ہم چیخ رہے تھے۔ اور میں یہ بھی کہہ رہا تھا کہ یہ انضمام امریکہ کے دباؤ پر ہو رہا ہے۔ اور اب میں آرمی چیف سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو امریکہ کے دباؤ پر فاٹا کا انضمام کر رہا تھا، وہ شخصیت آپ ہی کی آستین کا سانپ ہے۔ اپنی آستین میں ڈھونڈیے، یہ آپ کی آستین میں یہ سانپ مل جائے گا، جس نے مجھے کہا تھا کہ اگر ہم نہیں کریں گے تو امریکہ ہمیں ہڑپ کر جائے گا۔ پبلک سے کہتے رہے کہ ہم تو آزادی سے بات کر رہے ہیں، کوئی آزادی سے بات نہیں ہو رہی تھی۔
تو اس تمام صورت حال میں جمعیۃ علماء نے ہمیشہ بڑے اصول کی سیاست کی ہے، پاکستان میں نظریاتی سیاست کی ہے، پاکستان کے مفادات کی سیاست کی ہے، پاکستان کے عوام کے درمیان وحدت کی سیاست کی ہے، اسے ایک قوم بنانے کی سیاست کی ہے۔ اور اگر ملک کو بگاڑا ہے، نفرتیں پیدا کی ہیں، اس کے لیے ماحول بنایا ہے، ہم ذمہ دار نہیں ہیں، اس کے ذمہ دار آپ لوگ ہیں۔
اپنی صفوں کا کھوج لگائیے، ہماری طرف شک کی نگاہ سے مت دیکھیے۔ ہم باہمی خود اعتمادی چاہتے ہیں، لیکن ہم اپنی بات کریں گے۔ تم غلط قانون سازی کرو گے تو اس پر ہم گرفت کریں گے۔
تم نے ستائیسویں آئینی ترمیم پاس کی، جو کچھ چھبیسویں آئینی ترمیم میں تم نے مان لیا تھا، اس کو دوبارہ تم نے وہی حرکت کی، اور جو وہاں رہ گیا تھا، تم نے وہی حرکت دوبارہ کی۔
اس طرح تو نہیں ہوتا۔ ایک مہینہ پہلے آپ کی سوچ، اور ایک مہینے کے بعد پھر آپ کی سوچ اور۔
تو باتیں بہت ہیں، کس کس بات کو رویا جائے، کس کس بات کو رویا جائے۔
کبھی آہ لب پر مچل گئی
کبھی اشک آنکھ سے ڈھل گئے
یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں
کبھی بجھ گئے، کبھی جل گئے۔
وَأٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔
،ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں