مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں جمعیت لائرز فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن سے خطاب

قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا اسلام آباد میں جمعیت لائرز فورم کے زیر اہتمام وکلاء کنونشن سے خطاب

19 جولائی 2026

نحمدہ و نصلی على رسولِهِ الكریم اما بعد فأعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ۔ صدق اللہ العظیم 

میرے انتہائی قابل احترام جمعیت لائرز فورم کے معزز وکلاء قابل احترام دانشور حضرات میں پہلی مرتبہ آپ کے اس اجتماع سے باضابطہ طور پر خطاب کر رہا ہوں تاکہ جب ہم کوئی بات کریں ہم کوئی موقف اپنائیں تو قانون و آئین کے لحاظ سے پوری جماعت کو اور مجھے بھی رہنمائی حاصل ہو کیونکہ ہم نے اس ملک کے ساتھ وفاداری کا حلف اٹھایا ہے اور ہم کبھی بھی نہیں چاہتے ہیں نہ کبھی ہم نے چاہا ہے کہ ہم کوئی بات کریں کوئی تحریک اٹھائیں اور وہ آئین یا قانون سے تجاوز ہو ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پاکستان میں اپنے فکر اپنے نظریے اور اپنے موقف کی پرچار کا قانونی حق رکھتے ہیں اور وہی ہم نے استعمال کیا ہے۔ 

سو میں یہ بات کہنے میں حق و جانب ہوں گا کہ 

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے 

میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے 

زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا 

بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے 

رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ 

ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے

میرے محترم دوستو! جو میں نے کہنا تھا، اور اس اجتماع سے میں سمجھ رہا تھا کہ میں کچھ کہوں گا، اور میں اپنی گفتگو کے لیے آپ کی تائید حاصل کروں گا، لیکن کچھ معاملہ الٹا ہو گیا ہے کہ اب مجھے جو آپ نے کہا ہے، اس کی تائید کرنی پڑ رہی ہے۔

ہم اس ملک میں سیاست کر رہے ہیں۔ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا کہ ملک کے اندر ایک فعال سیاست ہم کر رہے ہیں۔ ہم نے انتہا پسندی کی سیاست کبھی نہیں کی۔ ہم نے اگر حق حکمرانی مانگا ہے تو آئین و قانون کی روح سے، عوام کی تائید کے ساتھ مانگا ہے۔

آج ہماری سیاست کو، ہماری پارلیمنٹ کو، ہمارے آئین کو، ہمارے قانون کو یرغمال بنا دیا گیا ہے، اور ہمارے حکمران، جو دعویٰ اس بات کا کرتے ہیں کہ یہ جمہوریت ہے، اور ہم پارلیمنٹ میں ہیں، اور یہ جمہوری حکومت ہے، لیکن آپ سب تجزیہ نگار ہیں، آپ میری اس بات کی تائید کریں گے کہ انہی حکمرانوں نے، انہی جمہوریت کے نام نہاد علمبرداروں نے، اپنے رویّوں کے ساتھ، اپنی خوشامد کے ساتھ، اقتدار کی بھیک کے ساتھ، عوام کو کمزور کیا، پارلیمنٹ کو کمزور کیا، آئین کو کمزور کیا، جمہوریت کو کمزور کیا، اور اسٹیبلشمنٹ کو مضبوط بنا دیا ہے۔

تو ظاہر ہے کہ ہم اگر حق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اپنے حق کا مطالبہ یہ بھیک نہیں ہے، یہ کوئی خوشامد نہیں ہے۔

ٹھکرا دو اگر دے کوئی ذلت سے سمندر

عزت سے جو مل جائے، وہ قطرہ ہی بہت ہے

 سو میں درد لے کر آیا ہوں آپ کے سامنے، 

کوئی ایسا اہلِ دل ہو کہ فسانہ محبت

میں اسے سنا کر روؤں، وہ مجھے سنا کر روئے

ہم نے ایک لمبی جدوجہد کی ہے، اور جب پی ڈی ایم کا اجلاس ہوا کرتا تھا تو میں ان اکابرین کے سامنے ضرور یہ سوال رکھتا تھا کہ کم از کم میری زندگی میں ہم جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا سے لے کر مسلسل آمریتوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، ذرا اس بات کا تجزیہ تو کریں کہ اس پوری جدوجہد میں جمہوریت طاقتور بنی یا آمرانہ قوتیں طاقتور بنی ہیں؟ اور اگر یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جمہوریت کمزور ہوئی ہے، تو پھر ذرا ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اس میں سیاست دانوں کا کتنا کردار ہے؟ ہماری کوتاہیوں کا اس میں کتنا کردار ہے؟ اس کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟ ہر شخص کہتا ہے کہ میں سب سے زیادہ طاقتور بنوں، ہر شخص کہتا ہے کہ میں سب سے زیادہ دولت مند ہو جاؤں، لیکن کبھی دنیا خواہشات کے تابع رہی ہے؟

اللہ تعالیٰ نے بھی انسان کو خواہشات سے بھرا ہے، اور تمام بشری، انسانی، حیوانی اور بہیمی خواہشات سے انسان کو بھر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود اللہ نے اپنا قانون اتارا ہے اور ہمیں ہدایت کی ہے کہ آپ نے قانون کی پیروی کرنی ہے، اپنے خواہشات کی پیروی نہیں کرنی، اور یہی ضابطہ اور یہی اصول انسانی معاشرے میں اعتدال پیدا کرتا ہے۔

ہم پہلے بھی انتہا پسند نہیں تھے، ہم آج بھی نہیں ہیں۔ انتہا پسند بنانا، شدت پسند بنانا، دہشت گرد بنانا، یہ امریکہ اور مغرب کی خواہش ہے، اور ہماری ریاستیں ان کی اس خواہش کو پورا کرنے میں دلچسپی رکھتی ہیں، اس لیے کہ کوئی مذہب کا نام لیتا ہے تو مذہب کے نام لیوا لوگوں کو اشتعال دو، مذہب کے نام لیوا لوگوں کو اشتعال دے کر اسے اسلحے کی طرف راغب کرو، اسے اسلحہ اٹھانے پر مجبور کرو، اسے پہاڑ پر چڑھنے پر مجبور کرو، اسے مورچے میں بیٹھنے پر مجبور کرو، تاکہ ہم مذہب کی ایک تصویر دنیا کے سامنے پیش کر سکیں کہ یہ اسلام ہے، یہ مذہبی اسلام ہے، اور یہ اسلام لوگوں کو لڑنا سکھاتا ہے، مارنا سکھاتا ہے، قتل و غارت گری سکھاتا ہے۔

یہ تاثر دنیا کو دینا کہ وہ اسلام سے متنفر ہو جائیں، اور پھر ان ملکوں کی ریاستی قوت کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ اپنے ملک کے ان شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے مذہب کا نیست و نابود کر دے۔

جمعیۃ علماء اسلام نے یہ فیصلہ کیا کہ نہیں، مذہب ہمارا امن کی بات کرتا ہے، میرا مذہب امن کی بات کرتا ہے، انسانی حقوق کی بات کرتا ہے، جان، مال، عزت و آبرو اور اس سے وابستہ حقوق کی بات کرتا ہے، اور دنیا بھر میں جو قوانین بنتے ہیں وہ اسی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے بنتے ہیں اور اگر قانون غالب ہے، اگر قانون مؤثر ہے، تو پھر کوئی کسی کا حق نہیں مار سکتا، کوئی کسی کو ناروا قتل نہیں کر سکتا، کوئی کسی کے گھر پر قبضہ نہیں کر سکتا، کوئی کسی کی زمین پر قبضہ نہیں کر سکتا، کوئی کسی کی عزت و ناموس کو بری نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔

ایک محفوظ معاشرہ، جس کے حقوق محفوظ ہوں، جس کی عزت محفوظ ہو، ہم نے پاکستان میں یہی روش اختیار کی۔ آج پورے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء، تمام مکاتبِ فکر کے دینی مدارس، اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان فعال ہے، متحرک ہے، اور اس کے ماحول میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے، قرآن و سنت کے علوم جاری ہیں۔ اور آپ آئے ہمارے پاس، آپ آئے، آپ نے ہمارے ساتھ بات چیت کی، آپ نے ہمارے سلیبس پر ہم سے بات چیت کی، اور آپ نے کہا: آپ کا سلیبس ٹھیک ہے۔

آپ نے مدارس کی تنظیم اور اس کے نظام پر بات کی، اور آپ نے کہا: آپ کے مدارس کا نظام بھی ٹھیک ہے۔ آپ نے ہمارے مدارس کے مالیاتی نظام پر بات کی، اور بالآخر آپ نے یہ تسلیم کر لیا کہ آپ کا مالیاتی نظام بھی ٹھیک ہے۔ یہ دسمبر 2004ء تک ہم مذاکرات کرتے رہے، اور ان مذاکرات کے نتیجے میں اتفاق رائے ہوا، اور جنوری یا فروری 2005ء میں دونوں طرف سے اس پر دستخط ہو گئے۔ جب معاہدہ ہو گیا، اور آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔

آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغانستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانستان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طالبان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔

سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہید کی کیا قدر و قیمت ہے۔ کیا بتا سکتے ہو آج تک قوم کو تم نے بتایا کہ کارگل میں آپ کے کتنے جوان شہید ہوئے، اور آپ نے وہاں سے کتنے شہداء کے جنازے وصول کیے؟ ذرا بتاؤ تو سہی کہ تم نے اپنے شہداء کو ہندو کے سپرد کیا، اور وہاں سے ایک بیان آیا کہ ہم نے انہیں اسلامی طریقے سے دفن کر دیا۔

ان کی تعداد مختلف بتائی جاتی ہے، لیکن  ہے سینکڑوں میں۔ تم اپنے شہداء کے جنازے وصول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تم نے اپنے جنازے ہندو کے حوالے کیے۔ کیپٹن کرنل شیر خان اگر ہمیں ملا، ہندوستان کے اصرار کے بعد ہم نے ان کا جنازہ وصول کیا۔ اپنے شہداء کی توہین، ان کی تذلیل، ان کی تحقیر جو تم لوگوں نے کی ہے، اب اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کی اوٹ میں چھپنے کی کوشش کرتے ہو۔ ہم نے کوئی غلط بات نہیں کہی۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرہ کار اور اس دائرہ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی از خود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔

یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا ہے۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصور وار ٹھہری اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے کے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ اور ایک مولوی صاحب اگلے دن رات کو ایک کھانے پر میرے ساتھ بیٹھے تھے، مجھے جلسے کی مبارک باد بھی دے رہے تھے، اور اگلے دن رو رہے ہیں۔ اڑتالیس گھنٹے کے بعد ان کو پتا چلا۔ وہ سنا ہے کہ کوئی ماتم ہو رہا تھا محرم کا، کوئی انگریز آیا ہوا تھا۔ اس نے جب یہ منظر دیکھا تو پوچھا: یہ لوگ اپنے آپ کو کیوں مار رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت پر غم کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس نے کہا: ان کا بڑا امام شہید ہوا ہے یہ اتنا غم کا اظہار کر رہے ہیں تو آئیے، ہم بھی شامل ہو جائیں۔ اسے کہا گیا: نہیں، یہ تو چودہ سو سال پہلے شہید ہوئے تھے۔ اس نے کہا: "اچھی خاصی تاخیر سے ان کو خبر پہنچی!" تو یہ ہوتی ہے بدنیتی۔ اور مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، ہماری میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے ان فقیروں کو ان شاء اللہ اپنے ساتھ مورچوں میں شانہ بشانہ پائیں گے۔ آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء کیوں ہم نے دیے؟ کس کے لیے دیے؟

تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا، آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔

تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگرد رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے اس کو توڑا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک سو جنازے اٹھائے ہیں ایک جلسے کے، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے آپ ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسے کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی،

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی

کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ

عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی، میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دینے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔

میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہو گی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن میں ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا کہ: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا کہ: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتہ تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔"

ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو، اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کی؟" جواب سنیے، وکلاء حضرات! انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔" یہ ایک بہت اہم شخصیت کا جواب تھا: "میں متعلقہ حلقوں کو ہدایت دے دوں گا، آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔" تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔

سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں ہے۔ تم کس بات میں لوگوں کو الجھا رہے ہو؟ اب تک یہ مجھ سے رابطے بھی کرتے تھے، لیکن جس دن انہوں نے کہا کہ: "ہم آپ کے پاس آئے ہیں، بلوچستان حکومت میں تو کم از کم ہمارے ساتھ شراکت کر لو۔" میں نے مولانا عبد الواسع کو ساری صورتِ حال بتائی، اور میں نے کہا: "آپ جماعت سے مشورہ کریں۔" پھر انہوں نے جماعت سے مشورہ کیا، اور جماعت نے کہا: "نہیں، ہم کبھی اس حکومت میں شامل نہیں ہوں گے۔"

ہمیں کہا گیا کہ: "آپ خیبر پختونخوا میں حکومت بنائیں، یعنی پی ٹی آئی کی حکومت ختم کریں اور دوسری حکومت بنائیں۔" میں نے کہا: "بنتی نہیں ہے۔ اپوزیشن کے کل ترپن ارکان ہیں۔ آپ ہمیں مہیا کر کے دیں گے؟" تو ان مہیا کیے گئے ممبروں کے سہارے میں حکومت بناؤں گا؟ لوٹوں کے ذریعے میں حکومت بناؤں گا؟ میں اس گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوں جس کی باگ میرے ہاتھ میں نہ ہو۔

میرے محترم دوستو! مسئلہ یہ ہے کہ میری تقریر اول سے آخر تک آپ قوم کو کیوں نہیں سناتے؟ میری پارلیمنٹ کی تقریر آپ قوم کو کیوں نہیں سنا رہے؟ پارلیمنٹ ایک مشترکہ ادارہ ہوتا ہے۔ حکومت کا ممبر، اپوزیشن کا ممبر، یہ کولیگ ہیں۔ یہ کیا بات ہے کہ حکومتی ارکان کی بات عوام تک پہنچے، اور جب ہماری باری آئے تو ہمیں آف کر دیں؟ میری بات قوم نہ سنے؟ تم میں ہمت ہے؟ میں نے اپنی تقریر میں کوئی گالیاں نہیں دیں۔ میں نے کوئی بداخلاقی کی زبان استعمال نہیں کی۔ میں نے آپ کا موقف اور اپنا موقف، دونوں کا تقابل کیا ہے۔ میں نے آپ کے موقف کو غلط کہا ہے، اور اپنے موقف کو دلائل کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جب میں معقول گفتگو کرتا ہوں، اور میں قوم کے سامنے اپنی بات دلائل سے پیش کرتا ہوں، تو میری بات آخر آپ قوم تک کیوں نہیں پہنچانے دیتے؟ اب قوم تک تو پہلے ہی نہیں پہنچ رہی تھی، پھر جو اسمبلی بلڈنگ کے اندر چیمبرز میں ٹی وی لگے ہوتے ہیں، اور ان چیمبرز میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، وہ جب میری تقریر سنتے تھے، تو اس کو بھی بند کر دیا گیا۔ اب صرف ایوان کے اندر کے لوگ سن رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو میں نے آپ سے کہا تھا ناں کہ آپ ایک ان کیمرہ اجلاس تو بلائیں تاکہ ہم دیکھیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہندوستان کی سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپ کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

اور جب آپ نے درخواست دی، پرسوں یا ترسوں، کہ پاکستان میں آپ کی جو ایک سو ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی، اور جسے ہم پورا نہیں کر سکے، اس لیے آپ مہربانی کریں اور وہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں، تو چین نے آپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ تفتان کے علاقے سندک میں ابتدا ہی سے چین کام کر رہا ہے۔ آج اس نے وہاں سے بستر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تو یہ آپ کے چین کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ایران آپ پر کتنا اعتماد کرتا ہے، لیکن خود برے حالات میں ہیں، یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔ آپ انڈیا سے لڑے، ہم نے سب سے پہلے آپ کو سپورٹ کیا۔ آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی بات کی، ہم نے اس کی بھی سپورٹ کی کہ ہم خطے میں امن کو ترجیح دیں۔ لیکن ہماری رضامندی کے باوجود آپ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ وہ گلہری کی طرح: "میری آنیاں جانیاں وے۔" اور آج بھی امریکہ ایران پر حملے کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب امریکہ نے میرے سپہ سالار کو تھپکی دی کہ: "آپ ایک بہت اچھے آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی ہیں۔" اس وقت تک اچھے آدمی تھے، جب ہمارے جھنڈوں کے نیچے ان کے جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا۔ اور یہ فائدہ اٹھانے کے بعد جب ہم گھر واپس آئے تو ایران پر پھر دوبارہ حملے ہو رہے ہیں۔ اب آپ کچھ کارکردگی تو دکھائیے نا۔

چین ناراض، افغانستان کے ساتھ آپ کی سرحد بند، ملک محصور، اشیاء کی قلت ہو رہی ہے۔ اور اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے کہہ رہے ہیں، جگہ جگہ، کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی، آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟

تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میرے صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے شاید بلوچستان اور سندھ کے دوستوں کو معلوم نہ ہو، یا پنجاب کے لوگوں کو معلوم نہ ہو، لیکن خیبر پختونخوا کے وکلاء جانتے ہیں کہ بنوں میں کتنی دفعہ چند مہینوں کے اندر اندر چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔"

لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیونٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔"

یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔

اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟

دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھ

میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔

تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔

میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔"میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں:

«سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ»

اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔

لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کریں گے، ملکی سیاست پر قابض ہوں گے، الیکشنوں میں دھاندلی کریں گے، اور دھاندلی بھی اس طرح ہو گی کہ بکسے تبدیل ہو جائیں، نمبر تبدیل ہو جائیں۔ لیکن گلگت میں اگر میرے حلقے کے بکسوں کو دریا میں پھینک دیا جائے، اس کو کون گنے گا؟ اسے کون گنے گا؟ تو میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے۔ میری باتوں کو برا مت مانو۔ میری باتوں سے سبق سیکھو۔

اور مجھے نہیں پتا، اگر خدا نخواستہ آپ کوئی مہم جوئی میں مصروف ہیں، کوئی ایسے کام کرنے میں مصروف ہیں جو آپ اپنی قوم سے چھپانا چاہتے ہیں، اور میرے ساتھ لڑائی چھیڑ کر اس شور و غوغا میں اپنا کام نکالنا چاہتے ہیں، تو اس پر میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔ لیکن اس پہلو کو نظرانداز نہ کرو۔

ہمارے ساتھ لڑائی چھیڑ کر شور و غوغا برپا کرتے ہو، اور ساری دنیا کی توجہ اس طرف ہو جاتی ہے، اور اس بیچ میں کون سی مہم آپ پوری کر رہے ہو؟ کیا کرنا چاہتے ہو؟ شہداء کے نام پر سیاسی مفادات، اپنی مہم جوئی کے لیے اپنے شہداء کا سہارا لیتے ہو؟ تم شہداء کے بھی مقروض ہو۔ تمہیں اپنے شہداء سے بھی معافی مانگنی ہوگی۔ تمہیں میرے شہداء سے بھی معافی مانگنی ہوگی۔ عوام مر رہے ہیں۔ یہ کس محاذ پر مر رہے ہیں؟

آئے روز، کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کسی گاؤں میں، کبھی کہاں، کبھی کہاں، کبھی سڑکوں پر، کبھی گلیوں میں، کبھی صحراؤں میں، کبھی میدانوں میں گولیاں چل رہی ہیں، عوام مر رہے ہیں۔ ان عوام کی کوئی قدر و قیمت ہے؟ ان کے خون کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے؟ اس لیے کہ وہ ان قربانیوں کا کوئی تنخواہ نہیں لے رہے؟ اگر شہید کی شہادت اور قربانی کو ایک محاوراتی جملے کے ساتھ، عام محاورہ کے، تم جوڑ کر اس کو شہداء کی توہین سمجھتے ہو، تو پھر دفاع مقدس ہے، تو پھر دفاع مقدس ہے۔ پھر ہمارے بجٹ سے دفاعی بجٹ کا نام تو نکالو،کیوں کہ دفاع جیسی مقدس چیز کو بجٹ کی طرف منسوب کرنا یہ تو دفاع کی توہین ہو جائے گی، اس کا نام رکھ لو: "مقدس بجٹ"۔

تو اس قسم کی بچوں والی باتیں کرنا اور پتہ نہیں کن کن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے۔ جب وہ بولتے تھے تو لگتا تھا کہ چہرہ بھی اس کا مصنوعی بنا ہوا ہے، زبان بھی اس کی مصنوعی ہے، ضمیر اور زبان کے درمیان مطابقت نہیں ہے۔

آپ اس طرح کا پروپیگنڈا کر کے ملک میں ایک سنجیدہ سیاست کو ذلیل کر رہے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ سنجیدہ سیاست کی ہے۔ ہم نے ملک کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ ہم نے اس ملک کو مشکلات سے نکالا ہے۔ ہم نے اس ملک کے نوجوان، جو بندوق کی طرف جا رہے تھے، ان کو روکا ہے۔ مدارس کو روکا ہے، مساجد کو روکا ہے، جوانوں کو روکا ہے۔ اور میں چھبیس سال سے اس محنت میں ہوں کہ میرا نوجوان وہ مثبت کردار کی طرف جائے۔ آپ نے ان کے سامنے میری کیا حیثیت کر دی؟ کل جب میں انہیں کہوں گا کہ آپ لوگ ایسا نہ کریں، اور وہ مجھے کہیں گے کہ آپ کے ساتھ کیا ہوا؟ تو میں برداشت تو کر لیتا ہوں۔ چلو، میں نے برداشت کر لیا۔ لیکن اگر آپ شہداء کا سہارا لے کر یہ توقع رکھتے ہیں کہ میں اپنا موقف تبدیل کر لوں گا، تو سن لو: جب تک تم سیدھے نہیں ہوگے، میرا موقف تبدیل نہیں ہو سکتا۔

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے۔

حضرات ساڑھے چھ بج گئے ہیں عصر کی نماز بھی نہیں پڑھی۔ آج اتنا ہی کافی اور ان شاء اللہ العزیز 15 اکتوبر کو ملتان میں مفتی محمود کانفرنس ہوگی۔ اور اگست کے مہینے میں چاروں صوبوں کا دورہ ہوگا۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا، عوام کے درمیان جاؤں گا، کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں اور کنونشنوں سے خطاب کروں گا، اور اپنا موقف قوم کے سامنے رکھوں گا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کہنے کی توفیق عطا فرمائے، حق پر قائم رکھے، اور پاکستان کو امن، استحکام اور خوشحالی عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض

‎ممبرز ٹیم جے یو آئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز 

‎#teamJUIswat


0/Post a Comment/Comments