قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کا سینئر صحافی آصف نثار غیاثی کو موجودہ صورتحال پر انٹرویو
24 جولائی 2026
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ السلام علیکم ناظرین! ہم اس وقت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں، اور قصور کے جلسے کے بعد جو آفٹر شاکس ہیں، وہ غالباً اگر ہم کہیں کہ ہفتہ، دس دن بعد بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، تو دلوں میں بہت سی چیزیں ہیں، لوگوں کے بہت سے خدشات ہیں، بہت سی حیرانی بھی ہو رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب جیسے نپی تلی گفتگو کرنے والے، احتیاط کا دامن نہ چھوڑنے والے، کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ وہ بہت زیادہ آگے چلے گئے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نہیں، یہ تو ابھی آغاز ہے۔
اب ہم نے انہی کے پاس بیٹھ کر پوچھنا ہے کہ یہ آغاز ہے یا انتہا ہے؟ اور یہ معاملہ کس طرف جائے گا؟ اور جو سیاست میں مداخلت کی روایات ہیں، آخر ان کو کیوں کر روکا یا توڑا جا سکتا ہے؟
السلام علیکم! جی مولانا صاحب!
مولانا فضل الرحمن: وعلیکم السلام
آصف نثار غیاثی: مولانا صاحب، آپ کا جو قصور میں خطاب ہوا ہے، میرے خیال میں ہر سیاسی شخصیت کا کوئی نہ کوئی خطاب ایسا ہوتا ہے جو بہت وائرل ہو جاتا ہے۔ اگر شیخ مجیب کا پلٹن والا خطاب تھا، تو آپ کا بھی یہ خطاب مجھے کچھ پلٹن والا محسوس ہوا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ خطاب آپ کے مزاج کے مطابق نہیں تھا، اور آپ بہت زیادہ ایگریسیو نہیں ہیں۔ واقعی کچھ ایسا ہوا تھا؟ یہ کچھ پری پلان تھا یا نہیں؟ یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک معمول کی بات تھی؟
مولانا فضل الرحمٰن: کہتے ہیں: نا کہ "کب تم پر یہ راز کھلا، انکار سے پہلے یا اقرار کے بعد؟"
تو آپ میری سالہا سال سے تقاریر سنتے ہیں۔ میں اپنی قوم سے کیا کہنا چاہتا ہوں، میں اپنے کارکنوں سے کیا کہنا چاہتا ہوں، اور میں جہاں پر کھڑا ہوں، اس مناسبت سے بات کرتا ہوں۔ اگر میں اپوزیشن میں ہوں، تو اپوزیشن مستقل ایک پلیٹ فارم ہے، جمہوری، پارلیمانی، آئینی، قانونی، اور اس پلیٹ فارم سے میری کیا ذمہ داری بنتی ہے، میں قوم کو کیا کہوں، میں اپنے کارکنوں کو کیا کہوں، یہ تمام تقریریں میری اسی حوالے سے ہوتی ہیں اور رہی ہیں۔
اور اب جو دو ہزار چوبیس کا الیکشن ہوا، اور دو ہزار چوبیس کے الیکشن میں جو کچھ ہوا، اس پر جو ہم نے ردِعمل دیا، بیش بہا آپ نے میری تقاریر سنی ہیں، اور میرے خیال میں ان کے مضامین میں، میرے موقف میں کہیں بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کچھ چیزیں آگے ہوں، کچھ پیچھے ہوں، کچھ جملوں، الفاظ اور تعبیرات میں انیس بیس کا فرق ہو، لیکن میسج ایک ہی ہوتا ہے۔
اب ظاہر ہے کہ مجھے اس عمر میں آ کر کوئی یہ سمجھائے کہ فوج کیا ہے، وطن اور سرحدات کے لیے ان کی حفاظت کے لیے قربانیاں کیا چیز ہیں، تو یہ طفل مکتب مجھے یہ چیزیں سمجھائیں گے؟ جو کچھ ہوا، اڑتالیس گھنٹے تک کچھ نہیں تھا۔ معمول کے مطابق سیاسی عمل ہمارا جاری تھا، اور اس کے بعد یکدم انہوں نے میری ایک گھنٹے کی تقریر میں سے ایک جملہ اٹھا کر پیالی میں طوفان کھڑا کر دیا۔ تو یہ بددیانتی ہے۔ نہ اس میں شہداء کی توہین کا کوئی پہلو ہے، نہ خدا کرے کہ ہم اس قسم کی باتیں سوچنے لگ جائیں۔ اور اگر فوج کو یہ دعویٰ ہے کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، تو پبلک میں آپ جائیے، شاید وہاں پر ان کی پالیسیوں اور حکمت عملی پر سوال اٹھ رہے ہوں، لیکن دو ہزار ایک سے لے کر آج تک پچیس سال پورے ہو رہے ہیں کہ جمعیۃ علماء اسلام کی پالیسیوں میں جو تسلسل ہے، ملک کے ساتھ کھڑے رہنا، پارلیمنٹ کے ساتھ کھڑے رہنا، آئین کے ساتھ کھڑے رہنا، ملک کے جمہوری نظام کے ساتھ کھڑے رہنا، اور جہاں میرے اکابر نے ہمیں چھوڑا تھا، وہیں سے ہم نے ان کے نقش قدم کو لیا اور آگے بڑھتے رہے ہیں۔
تو اس دوران میں جمعیۃ علماء اسلام پبلک سے کیا بات کہہ دیتے؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنے کارکن کو دور نہیں رکھا؟ کیا ہم نے بندوق سے اپنے قوم کو دور نہیں رکھا؟ ہم نے بندوق کی سیاست کو غیر شرعی نہیں کہا؟
پاکستان کے اندر تو علماء کرام کا ایک اجماع ہے، اور اس کا تعلق تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے ساتھ ہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جمعیۃ علماء اسلام، جو علماء کرام کے سب سے بڑے پلیٹ فارمز ہیں، وہاں سے جو اجماعی رائے اٹھتی ہے، جمعیۃ علماء اسلام پبلک میں اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ اس پر تو دورائے ہی نہیں ہے۔ اور پھر اس پر آپ خود اندازہ لگائیں کہ گزشتہ چار پانچ سالوں میں خود جمعیۃ علماء اسلام کے اپنے دو سے ڈھائی سو علماء و اکابر شہید ہوئے ہیں، اور آپ الزام لگا رہے ہیں کہ تمہیں شہیدوں کی قدر نہیں؟ جب بات چھڑتی ہے تو پھر بات چھڑتی ہے۔
تو ہم نے نہ ان کے الزام کو تسلیم کیا ہے، نہ اس کے سامنے کوئی کمزوری دکھائی ہے۔ بڑے خود اعتمادی کے ساتھ میں سیاست کرتا ہوں، میری جماعت بڑے خود اعتمادی کے ساتھ سیاست کرتی ہے۔ اور یہ کون ہوتے ہیں جو ہمیں سیاست سکھلائیں گے، ہمیں وطن کی محبت سکھلائیں گے، اور ہمیں شہداء کی قدر سکھلائیں گے؟ یہ لوگ سکھلائیں گے؟
مجھے تو حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ ہم اتنے گر گئے ہیں کہ اب ہم ان سے متاثر ہو کر سیاست کریں گے، ان سے مرغوب ہو کر سیاست کریں گے؟ جن کو ہم سیاست سکھانا چاہتے ہیں، جن کو ہم ملک کی قدر و قیمت سکھانا چاہتے ہیں، وہ ہمارے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ تعجب ہوتا ہے جی۔
آصف نثار غیاثی: ان حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ کی مولانا صاحب کی تقریر سے جو بھارتی میڈیا ہے، وہ بڑا فائدہ اٹھا رہا ہے، وہی چیز کو پھیلا رہا ہے۔ تو کیا ہمارا اپنا بیانیہ، سرکاری بیانیہ، اتنا کمزور ہے کہ وہ آپ کی تقریر کے ایک جملے سے سارا بدل جائے گا؟
مولانا فضل الرحمٰن: دیکھیے، بات یہ ہے کہ میں اپنے ملک کے اندر بات کر رہا ہوتا ہوں۔ اگر میرے بیانیے، اس پر غلط الزام لگایا جاتا ہے، مجھے ایک ابتلا میں مبتلا کرنے کے بعد جب میں نے اس کا دفاع کیا، تو اب میرے دفاع کو کاؤنٹر کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ چل رہا ہے ہندوستان میں، جب بنگال میں آپ سرنڈر کر رہے تھے، اس وقت انڈیا پہ کیا اثر تھا، اُس وقت ہندوستان کیا پیغام دے رہا تھا؟ ان کو شرم نہیں آتی ایسی باتیں پر؟ خود کو ٹھیک کرو، اور جب آپ ٹھیک ہوں گے تو قوم آپ کو مبارک باد دے گی۔ انڈیا نے ہم پر حملہ کیا، اور سب سے پہلے فضل الرحمٰن کھڑا ہو گیا اپنی فوج کو سپورٹ کرنے میں۔ اور جب آپ نے بہادری دکھائی تو میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ میں نے آپ کو تنہا تو نہیں چھوڑا۔ یہ تو آپ ہیں کہ ہم ملک میں آئین کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ملک کے اندر انصاف کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اُس میں ملک کے رکھوالے جو ہیں اپنے ہی قوم اور اپنے ہی شہریوں کی نیتوں پر شبہ کرتے ہیں، اور ہمارے ملک کے رکھوالے وہ اپنے ہی شہریوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ ملک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے، اخلاص رکھنے والے، اُس کے لیے قربانیاں دینے والوں پر جب ہمارے ملک کے رکھوالے شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، تو پھر بحث چھڑے گی۔
آصف نثار غیاثی: مولانا صاحب! وہ کہتے ہیں، اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو کسی سے نہیں کہا کہ آپ لشکر بنائیں، بلکہ لشکر بنانا تو اگر کوئی اپنی حفاظت کے لیے گارڈ رکھتا ہے تو کیا ہوا؟ یہ تو بینک کے باہر بھی گارڈ ہوتے ہیں، رانا ثناء اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ بینک کے باہر دو گارڈ رکھتے ہیں تو اس کا مطلب لشکر تو نہیں ہوتا۔ واقعی کوئی ایسی چیز تھی کہ انہوں نے لوگوں کو لشکر بنانے کا کہا ہو؟
مولانا فضل الرحمٰن: دیکھیے، آپ پشاور کے رہنے والے ہیں۔ پرسوں ترسوں کہ آپ اپنی صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سارا کچھ ہو رہا ہے۔اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی، تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعت اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کے فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعت اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملی، یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعت اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آگئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی ابادی کے وہی کے لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمت عملی اس کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟
آصف نثار غیاثی: آپ کی سیاست کا خاصہ یہ رہا ہے کہ آپ کبھی بھی بند گلی کی طرف سیاست دھکیلتے بھی نہیں ہے اور نہ ہی جاتے ہیں۔ اب جب یہ معاملات ہمیں ایسے لگ رہے ہیں جیسے بند گلی کی طرف چلے گئے ہیں، تو کوئی نہ کوئی راستہ، کوئی نہ کوئی وے آؤٹ ضرور ہوگا۔ آپ کیا فارمولا پیش کرتے ہیں؟ کیا ہونا چاہیے تاکہ یہ سارا ماحول، جو اس وقت بنا ہوا ہے، مستقبل میں دوبارہ اس قسم کی صورت حال سیاست میں نہ رہے؟
مولانا فضل الرحمٰن: میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ مجھے یہ کریڈٹ دے رہے ہیں کہ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ کو اپ تنقید کا نشانہ بنائیں، کوئی کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کہ سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیۃ علماء اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ آج تک بھی سوشل میڈیا پر جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور عوام کا ٹرینڈ ٹاپ پر جا رہا ہے۔ ہر لمحہ عوام کی حمایت ہمارے ساتھ جا رہی ہے، اور سرکاری ٹرینڈز کو ڈبو کر رکھ دیا، ان کو پیچھے دھکیل دیا گیا، انہیں ڈیلیٹ کرانے پر مجبور کر دیا۔
یہ ہے وہ حق کی وہ آواز ہے جس کو غائبانہ طریقے سے ایک تائید اور سپورٹ ملی ہے۔ اور جب اس قسم کی سپورٹ ملتی ہے، جبکہ ہمارے پاس ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ایک روپے کا بھی فنڈ نہیں ہے، اور ان کے ہاں سرکار کی سطح پر اربوں روپے اس کام کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، اور وہ بھی فیک آئی ڈیز پر، چیک آئی ڈیز کو چلانے کے لیے اور ہمارے خلاف استعمال کرنے کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں، ان فقیروں نے خالی جیب ان کا مقابلہ کیا ہے۔ اور دلوں کو پھیرنے والا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، کیسے دلوں کو پلٹا ہماری طرف، کیسے اس نے لوگوں کے دل ہماری طرف پھیر دیے، ہماری نصرت فرمائی۔ اسی کو کہتے ہیں اللہ کی نصرت ہے، اور ہم نے یہ جنگ جیت لی۔
آصف نثار غیاثی: مولانا صاحب! سیاسی جماعتوں اور حکومت کا کردار، اس تمام تر تناظر میں، خصوصاً دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے بعد، کیا عوام کی نظر میں مشکوک نہیں ہوتا جا رہا؟ کبھی ایک جماعت کندھا پیش کرتی ہے، کبھی دوسری۔ سیاسی جماعتوں کے لیے آپ کیا لائحہ عمل تجویز کریں گے کہ مستقلا اس صورتحال سے نجات مل سکے؟
مولانا فضل الرحمٰن: یہ ہمارا المیہ ہے کہ ہر مارشل لاء اور ہر ڈکٹیٹر کو سیاست دانوں نے کندھا فراہم کیا ہے۔ یہ ایک لمبی تاریخ ہے۔ اٹھاون سے مارشل لا لگتے آئے ہیں، بلکہ اس سے پہلے بھی نیم مارشل لا کی کیفیت رہی، اور ہمارہ جاگیر دارانہ سیاست، سرمایہ دارانہ سیاست، ان کو سہارے بخشتے ہیں۔ اور آج بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ جونیجو صاحب نے سہارا مہیا کیا، اس کو ہٹایا گیا، ان کی کوکھ سے میاں نواز شریف صاحب نکل ائے، انہوں نے سہارا دیا، پھر جب وہ معتوب ہوئے اور مشرف کا زمانہ آیا تو چوہدری شجاعت حسین صاحب انہی کی کوکھ سے نکل ائے۔ یہی سلسلہ آج تک چل رہا ہے۔
تو اگر وہ ملک سیاستدان ہیں، اگر وہ ملک کے وفادار ہیں، تو میں حضرت اس وقت بڑی سخت بات کہنا چاہتا ہوں کہ انگریز کے دور میں انگریز کے وفادار کو وفادار کہا جاتا تھا، اور ہندوستان کے وفادار کو غدار کہا جاتا تھا۔ آج اسٹیبلشمنٹ کے وفادار کو وفادار کہا جاتا ہے، اور پاکستان کے وفادار کو غدار کہا جاتا ہے۔
آصف نثار غیاثی: مولانا صاحب! آخر میں یہ بتائیے گا کہ یہ جو ہماری سیاسی جماعتیں ہیں، کیا آپ یہ نہیں سمجھتے کہ انہوں نے اپنے آپ کو ایک دائرے میں قید کر لیا ہے، اور اسی دائرے میں ایک دوسرے کی باری آتی ہے، کبھی تخت، کبھی تختہ؟ تو اس صورتِ حال میں اس وقت اگر سوشل میڈیا کا کردار میں آپ کے سامنے لاؤں، پہلے روایتی میڈیا ہوتا تھا، جسے کنٹرول کر لیا جاتا تھا، لیکن اب ہم نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا کسی کے کنٹرول میں نہیں ہے۔
تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سیاسی انقلاب میں اس سوشل میڈیا کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟ سیاسی جماعتوں کو دباؤ میں لانے کے لیے، تاکہ وہ اپنی پرانی سیاست یا پرانے طریقے چھوڑ دیں، نوجوانوں اور سوشل میڈیا کے کردار کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
مولانا فضل الرحمٰن: میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں۔ مجھے ڈیجیٹل میڈیا پر کوئی مہارت نہیں ہے، نہ میں اس کے بارے میں کوئی حتمی رائے پیش کر سکتا ہوں۔ ہمارے نوجوان اس ساری صورتِ حال کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ میں تو پرانی باتیں کروں گا اور اسٹیبلشمنٹ کو نصیحت کروں گا کہ مجھے سیاستدانوں کو دبانے کے لیے صدیوں پرانے، فرسودہ اور دقیانوسی حربے استعمال کرنا چھوڑ دیں۔ نئی دنیا میں ہو، نئی دنیا کا انداز اختیار کرو، بات کرو، سمجھو۔
آصف نثار غیاثی: کیا حکومت کی طرف سے، یعنی جب معاملات گرم ہوتے ہیں، تو حکومت ایک کردار ادا کرتی ہے، کیا حکومت کی طرف سے اب تک کوئی ایسی کوشش، کاوش یا رابطہ ہوا ہے دونوں اطراف کے ساتھ کہ بس؟
مولانا فضل الرحمٰن: بالکل بھی نہیں ہوا۔ اور اگر کسی سطح پر ہوئے بھی ہیں تو ایسے لیول کے نہیں ہیں جہاں کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہو۔ ایک انگیجمنٹ، کسی درجے کے رابطے، لیکن جس سطح پر بات ہونی چاہیے اور جہاں پر مسئلہ حل ہو، اس سطح پر ابھی تک کوئی بات نہیں چلی۔
آصف نثار غیاثی: ناظرین! آپ نے دیکھا، یہ مولانا صاحب کی پریس کے ساتھ، ہم کہہ سکتے ہیں، پہلی تفصیلی گفتگو تھی۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ معاملات وہ بند گلی میں لے کر نہیں گئے، بلکہ انہیں بند گلی کی طرف دھکیلا گیا ہے۔ اب جن قوتوں نے انہیں بند گلی کی طرف دھکیلا ہے، اب یہ ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس بند گلی کا راستہ بھی کھولیں۔ ساتھ ہی حکومت کا کردار بھی ان معاملات کو سلجھانے کے لیے ضروری ہے، لیکن بدقسمتی سے ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت کی طرف سے بھی ایسا کوئی سنجیدہ کردار سامنے نہیں آیا۔
تو لگتا ایسا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملکی سیاست مولانا صاحب کی قصور والی تقریر کے اردگرد گھومتی رہے گی۔ اگلے پروگرام تک ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔ ملیں گے کچھ دنوں بعد، شاید اس وقت تک ملک میں یا ملکی سیاست میں کچھ تبدیلیاں آ چکی ہوں۔
تب تک کے لیے اللہ حافظ۔
ضبط تحریر: #سہیل_سہراب #محمدریاض
ممبرز ٹیم جےیوآئی سوات، ممبر مرکزی کونٹنٹ جنریٹرز رائٹرز
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں