قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمن صاحب کا اہم ویڈیو پیغام میں حکومت اور کشمیر ایکشن کمیٹی سے فوری اپیل
یکم اگست 2026
کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی زیرِ قیادت اہلِ کشمیر کا احتجاج جاری ہے۔ دو ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے، وہ دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے 5 جون 2026ء کو جب حالات خراب ہوئے، کشیدگی بڑھ گئی، حکومت اور کمیٹی کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی، تو کمیٹی نے مجھے پیغام بھیجا۔ ایک بہت بڑے وفد کے ساتھ یہاں تشریف لائے اور تحریری طور پر مجھ سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں ان کا تہہِ دل سے ممنون ہوں۔
میں نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے ان کی اپیل پر لبیک کہا۔ اس کے بعد میرا رابطہ حضرت مولانا سعید یوسف خان صاحب، امیر جمعیت علماء اسلام آزاد جموں و کشمیر، اور جناب سردار کامران اعظم خان صاحب کے ذریعے ان کے ساتھ رہا۔
اس پورے دورانیے میں، جہاں کمیٹی نے مجھ پر اعتماد کیا اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کی اپیل کی، وہاں حکومت نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ سیاسی حل کی طرف متوجہ ہونے کے لیے بھی حکومت تیار نہ ہوئی، بلکہ طاقت کے ذریعے ان کی تحریک کو کچلنے پر مصر رہی، جو نہایت افسوسناک بات ہے۔
عوام اپنی حکومت اور اپنی ریاست سے ماں جیسا سلوک روا رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔ یہاں وہ ہر وقت، صبح و شام، اور ہر لمحہ ریاست کے بھیانک جبر و ظلم کے خوف میں مبتلا رہے۔ مائیں، بہنیں اور چھوٹے چھوٹے بچے اسی خوف میں زندگی گزارتے رہے، لیکن حکمرانوں کے جسم پر جوں تک نہ رینگی، انہیں کوئی احساس تک نہ ہوا۔
اس وقت، ہر چند کہ حکومت نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، نہتے عوام پر گولیاں چلائیں، اور میری معلومات کی حد تک شہداء کی تعداد اسی تک پہنچ چکی ہے، تب بھی حکمرانوں کے دل پتھر بن چکے ہیں۔ کسی بھی طریقے سے وہ اپنے عوام اور اپنے کشمیریوں، جن کے سینوں میں ایک پاکستانی دل دھڑکتا ہے، ان کے لیے کوئی رحم دکھاتے نظر نہیں آتے۔
اس کے باوجود کشمیر ایکشن کمیٹی نے اس نئی صورتحال میں جو اگلا اقدام اٹھانا ہے، میں ایک بار پھر ان حالات میں، جہاں میں ان کے جذبات، ان کے کرب اور ان کی تکلیف کو دیکھ کر، ان سے معذرت کے لہجے میں اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مزید مہلت دیں، کسی بڑے اقدام سے گریز کریں، اور ایک اور موقع دیں۔
باوجود اس کے کہ ان کا جسم زخمی زخمی ہے، لہو لہو ہے، ان کے دامن میں لاشیں پڑی ہوئی ہیں، اس کے باوجود میں ان کے تحمل، ان کے صبر اور ان کی برداشت کو سلام کرتا ہوں، اس اپیل کے ساتھ کہ وہ مزید کوئی بڑا اقدام کرنے سے گریز کریں، تاکہ اللہ کرے مسئلے کا کوئی منصفانہ اور پائیدار حل سامنے آ سکے۔
ہمیں اس بات پر بھی تشویش ہے، اور یہ بڑے خطرے کی گھنٹی ہے، کہ اب یہ تحریک پورے کشمیر میں پھیل گئی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان کے مختلف علاقوں میں نظر آ رہے ہیں، اور بیرونِ ملک، خاص طور پر یورپ میں، کشمیری عوام سراپا احتجاج بن رہے ہیں، اور یہ تحریک پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔
اس ساری صورتحال کی سنگینی کا حکومت کو احساس کرنا چاہیے، ہمارے ریاستی اداروں کو اس کا احساس کرنا چاہیے، ہماری ریاستی قوت کو اس کا احساس کرنا چاہیے، اور اپنے گھر کو خون سے رنگین کرنے کے بجائے اسے شاداب کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ صلح و آشتی کی طرف میں ان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ہماری اپیل پر سنجیدگی سے غور کریں اور مسئلے کے حل کے لیے آگے بڑھیں۔
میں کشمیریوں کے صبر، تحمل، برداشت اور مجھ پر ان کے اعتماد پر ان کا بہت شکر گزار ہوں۔
اللہ تعالیٰ کشمیر کو جنت نظیر بنائے، اسے امن کا گہوارہ بنائے اور ترقیوں سے سرفراز فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
#teamJUIswat

.jpeg)
ایک تبصرہ شائع کریں